غلام محمد قاصر جدید اردو غزل کے اُن اہم شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے روایت اور جدت کے امتزاج سے اپنی الگ شناخت قائم کی۔ ان کا اصل نام غلام محمد خان تھا اور وہ 4 ستمبر 1941ء کو ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے پہاڑ پور میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے نہ صرف غزل کو نئے استعاروں، علامتوں اور فکری جہات سے آشنا کیا بلکہ سماجی ناانصافی، انسانی محرومی، جنگ، خوف اور داخلی کرب جیسے موضوعات کو بھی اپنی شاعری کا حصہ بنایا۔ ان کے ہاں رومان کی لطافت کے ساتھ عصری شعور کی گہرائی بھی نمایاں دکھائی دیتی ہے، یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری خواص و عوام دونوں میں یکساں مقبول ہوئی۔ احمد ندیم قاسمی نے ادبی جریدے ’’فنون‘‘ کے ذریعے ان کے فن کو متعارف کرایا، جس کے بعد وہ جدید اردو شاعری کی ایک توانا آواز بن کر ابھرے۔
ِغلام محمد قاصر کی شاعری کی سب سے بڑی خصوصیت زبان کی تازگی، سادگی اور معنوی گہرائی ہے۔ انہوں نے روایتی غزل کو محض محبوب و محبت کے دائرے تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے معاشرتی حقیقتوں اور انسانی تجربات سے جوڑ دیا۔ ان کے شعری مجموعے ’’تسلسل‘‘، ’’آٹھواں آسمان بھی نیلا ہے‘‘ اور ’’دریائے گماں‘‘ اردو ادب میں خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کے متعدد اشعار زبان زدِ عام ہوئے، خصوصاً یہ شعر: ’’کروں گا کیا جو محبت میں ہو گیا ناکام / مجھے تو اور کوئی کام بھی نہیں آتا‘‘۔ ان کی شاعری میں فطرت کی علامتیں—جیسے دریا، ہوا، بارش اور آسمان—محض منظر نگاری نہیں بلکہ انسانی جذبات اور باطنی کیفیات کی نمائندگی کرتی ہیں۔
ِشاعری کے علاوہ غلام محمد قاصر نے ریڈیو پاکستان اور پاکستان ٹیلی وژن کے لیے بھی خدمات انجام دیں اور بطور ڈرامہ نگار و نقاد اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ مشاعروں میں ان کا مترنم اندازِ ترنم سامعین کو مسحور کر دیتا تھا۔ وہ نرم خو، باوقار اور نہایت شائستہ شخصیت کے مالک تھے۔ حکومتِ پاکستان نے ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں انہیں بعد از وفات صدارتی تمغۂ حسنِ کارکردگی سے نوازا۔ 20 فروری 1999ء کو پشاور میں ان کا انتقال ہوا، مگر اپنی منفرد فکر، جدید اسلوب اور دل نشیں شاعری کے باعث وہ آج بھی اردو ادب کے افق پر پوری آب و تاب کے ساتھ موجود ہیں۔