غلام ربانی تاباں — شاعر کی تصویر

غلام ربانی تاباں کا تعارف، احوال زندگی اور سرگزشت

شاعر

تعارف شاعری

تعارف

غلام ربانی تاباںؔ اردو ادب کے ممتاز ترقی پسند شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی شاعری، تراجم اور ادبی خدمات کے ذریعے اردو زبان و ادب کو نئی فکری جہت عطا کی۔ وہ15 فروری 1914ء میں فرخ آباد، اتر پردیش میں پیدا ہوئے اور ابتدائی تعلیم اپنے آبائی علاقے میں حاصل کرنے کے بعد علمی و ادبی فضا سے وابستہ ہوگئے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے علمی ماحول نے ان کی فکری تربیت میں اہم کردار ادا کیا۔ وہ اردو، فارسی، ہندی اور انگریزی زبانوں پر عبور رکھتے تھے اور ادب کے ساتھ صحافت اور سرکاری خدمات سے بھی وابستہ رہے۔ تقسیمِ ہند کے بعد انہوں نے ہندوستان ہی میں قیام کیا اور دہلی کے ادبی حلقوں میں ایک باوقار اور سنجیدہ ادبی شخصیت کے طور پر پہچانے گئے۔

غلام ربانی تاباںؔ کی شاعری میں ترقی پسند فکر، انسان دوستی، رومانیت اور تہذیبی شعور کا حسین امتزاج ملتا ہے۔ اگرچہ وہ ترقی پسند تحریک سے وابستہ تھے، تاہم ان کی شاعری محض سیاسی نعرہ بازی تک محدود نہیں بلکہ اس میں جمالیاتی حسن، فکری گہرائی اور کلاسیکی اردو شاعری کی لطافت بھی نمایاں نظر آتی ہے۔ انہوں نے غزل اور نظم دونوں اصناف میں یادگار تخلیقات پیش کیں۔ ان کے شعری مجموعوں میں ذوقِ سفر، غبارِ منزل اور غمِ دوراں خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کی شاعری میں انسانی دکھ، سماجی ناانصافی، آزادی کے جذبات اور محبت کی لطیف کیفیات نہایت شستہ اور دلنشیں انداز میں سامنے آتی ہیں۔ فارسی تراکیب اور کلاسیکی علامتوں کے خوبصورت استعمال نے ان کے اسلوب کو مزید وقار عطا کیا۔

تاباںؔ صرف شاعر ہی نہیں بلکہ عمدہ مترجم بھی تھے اور انہوں نے عالمی خصوصاً روسی ادب کے تراجم کے ذریعے اردو ادب کے دامن کو وسعت بخشی۔ ناقدین کے نزدیک ان کے بعض تراجم تخلیقی ادب کا درجہ رکھتے ہیں۔ ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں ان کی شخصیت اور فن پر تحقیقی کام بھی کیے گئے اور “غلام ربانی تاباں: حیات اور شاعری” جیسی کتابیں تحریر ہوئیں۔ وہ 1993ء میں نئی دہلی میں وفات پا گئے، مگر ان کی شاعری آج بھی اردو ادب میں اپنی فکری تازگی، تہذیبی شائستگی اور انسانی احساسات کے باعث زندہ و تابندہ ہے۔ ترقی پسند تحریک کے اہم شاعر ہونے کے باوجود تغزل اور شعری لطافت کو برقرار رکھنا ان کا وہ وصف ہے جس نے انہیں اپنے عہد کے دوسرے شعرا سے ممتاز مقام عطا کیا۔