اقبال ساجد — شاعر کی تصویر

اقبال ساجد کا تعارف، احوال زندگی اور سرگزشت

شاعر

تعارف شاعری

تعارف

اقبال ساجد اردو کے معروف جدید غزل گو شعرا میں شمار ہوتے ہیں جن کا اصل نام محمد اقبال تھا۔ وہ 18 مئی 1932 کو لنڈھورا، ضلع سہارنپور (بھارت) میں پیدا ہوئے اور تقسیمِ ہند کے بعد پاکستان آکر لاہور میں مقیم ہوگئے۔ سادگی، داخلیت اور گہرے انسانی شعور نے ان کی شاعری کو معاصر شعرا سے ممتاز کیا۔ اگرچہ وہ صرف میٹرک تک تعلیم حاصل کرسکے، لیکن مطالعے، مشاہدے اور فطری صلاحیت کے باعث اردو غزل میں ایک منفرد مقام حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔ انھوں نے معروف شاعر نازش حیدری سے شعری اصلاح لی اور بعدازاں ریڈیو پاکستان اور صحافت سے بھی وابستہ رہے۔

اقبال ساجد کی شاعری میں جدید انسان کی تنہائی، معاشرتی ناہمواری، داخلی کرب اور شکستہ خوابوں کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔ ان کے اشعار بظاہر سادہ مگر معنوی اعتبار سے نہایت گہرے ہوتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ان کے کئی اشعار زبان زدِ عام ہوئے۔ ان کے ہاں زندگی کے تلخ تجربات، غربت، محرومی اور سماجی بے حسی ایک ایسے فنکارانہ انداز میں سامنے آتے ہیں جو قاری کو دیر تک متاثر کرتا ہے۔ ناقدین کے مطابق ان کی شاعری کا سب سے نمایاں وصف یہ ہے کہ وہ کم لفظوں میں بڑے معنی پیدا کرتے ہیں اور اکثر ان کا دوسرا مصرع قاری کو چونکا دیتا ہے۔

اقبال ساجد کی زندگی مسلسل معاشی مشکلات، فاقہ کشی اور بے روزگاری سے عبارت رہی۔ شدید مالی پریشانیوں کے باعث انھیں بعض اوقات اپنا کلام بھی فروخت کرنا پڑا، تاہم ان حالات کے باوجود ان کی خوددارانہ طبیعت اور تخلیقی وقار برقرار رہا۔ وہ ادبی شہرت اور گروہ بندی سے دور رہے، اسی لیے ان کی شخصیت میں ایک درویشانہ رنگ نمایاں تھا۔ شراب نوشی اور مسلسل ذہنی دباؤ نے ان کی صحت کو متاثر کیا اور بالآخر 18 مئی 1988ء کو لاہور میں ان کا انتقال ہوگیا۔ ان کی وفات کے بعد ان کا شعری مجموعہ ’’اثاثہ‘‘ شائع ہوا جس نے ان کی ادبی عظمت کو مزید مستحکم کردیا، اور آج اقبال ساجد کو جدید اردو غزل کا ایک منفرد اور باوقار شاعر تسلیم کیا جاتا ہے۔