اقتدار جاوید معاصر اردو ادب کے ان ممتاز شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی منفرد فکری بصیرت، تہذیبی شعور اور علامتی اسلوب کے ذریعے اردو شاعری میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ یکم نومبر 1959ء کو ضلع منڈی بہاؤالدین کے گاؤں بادشاہ پور میں پیدا ہونے والے اقتدار جاوید ایک علمی اور روحانی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کے والد سراج قادری پنجابی زبان کے معروف صوفی شاعر تھے، جس کے باعث انہیں بچپن ہی سے ادب، تصوف اور فکر و دانش کا ماحول میسر آیا۔ عربی، فارسی، اردو اور پنجابی ادب کے گہرے مطالعے نے ان کی فکری اور تخلیقی شخصیت کو مزید نکھارا۔
اقتدار جاوید نہ صرف ایک ممتاز شاعر ہیں بلکہ نقاد، مترجم اور کالم نگار کی حیثیت سے بھی ادبی دنیا میں قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ انہوں نے اردو اور پنجابی دونوں زبانوں میں شاعری کی اور نظم و غزل کی اصناف میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔ ان کے متعدد شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں جن میں ’’میں سانس توڑتا ہوا‘‘، ’’ایک اور دنیا‘‘، ’’ہیکل‘‘ اور پنجابی زبان میں ’’پٹوری وار‘‘ اور ’’چار چفیرے‘‘ خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔ جدید عربی شاعری سے ان کی گہری وابستگی نے انہیں ترجمے کے میدان میں بھی نمایاں کیا، اور انہوں نے کئی اہم عرب شعرا کے کلام کو اردو زبان میں منتقل کیا۔
ان کی شاعری میں وجودی سوالات، تہذیبی یادداشت، روحانی جستجو، اساطیری علامات اور جدید انسان کی داخلی کشمکش نہایت مؤثر انداز میں جلوہ گر ہوتی ہے۔ ناقدین کے نزدیک اقتدار جاوید کا لہجہ اور اسلوب اتنا منفرد ہے کہ ان کے اشعار اکثر بغیر نام کے بھی پہچانے جا سکتے ہیں۔ روایت اور جدیدیت کے امتزاج سے تشکیل پانے والی ان کی تخلیقات اردو اور پنجابی ادب میں ایک اہم اضافہ سمجھی جاتی ہیں، اور یہی خصوصیات انہیں عہدِ حاضر کے اہم ترین ادبی تخلیق کاروں میں شامل کرتی ہیں۔