دیواروں پر سائے سے لہراتے تھے
لوگ اس کی تصویریں دیکھنے آتے تھے
اس بستی میں مجھ کو بھی لے جانا تھا
جس بستی میں چاند بدن گہناتے تھے
اس کیاری میں میری تیری آنکھیں تھیں
جس کیاری میں تارے بوئے جاتے تھے
پھول کٹورا پانی آنکھیں اور دیے
لوگ کہیں ویرانے میں رکھ آتے تھے
Deewaron par saaye se lehraate the
Log us ki tasveeren dekhne aate the
Us basti mein mujh ko bhi le jaana tha
Jis basti mein chaand badan gehnaate the
Us kyari mein meri teri aankhen thin
Jis kyari mein taare boye jaate the
Phool katora paani aankhen aur diye
Log kahin veerane mein rakh aate the
عشرت آفرین، جن کا اصل نام عشرت جہان ہے، اردو ادب کی ایک ممتاز شاعرہ اور ادبی شخصیت ہیں۔ وہ 25 دسمبر 1956ء کو کراچی میں پیدا ہوئیں اور اپنے گھرانے م...
مکمل تعارف پڑھیں