لڑکیاں ماؤں جیسے مقدر کیوں رکھتی ہیں
تن صحرا اور آنکھ سمندر کیوں رکھتی ہیں
عورتیں اپنے دکھ کی وراثت کس کو دیں گی
صندوقوں میں بند یہ زیور کیوں رکھتی ہیں
وہ جو آپ ہی پوجی جانے کے لائق تھیں
چمپا سی پوروں میں پتھر کیوں رکھتی ہیں
وہ جو رہی ہیں خالی پیٹ اور ننگے پاؤں
بچا بچا کر سر کی چادر کیوں رکھتی ہیں
بند حویلی میں جو سانحے ہو جاتے ہیں
ان کی خبر دیواریں اکثر کیوں رکھتی ہیں
صبح وصال کی کرنیں ہم سے پوچھ رہی ہیں
راتیں اپنے ہاتھ میں خنجر کیوں رکھتی ہیں
عشرت آفریں
Ladkiyan maaon jaise muqaddar kyun rakhti hain
Tan sehra aur aankh samandar kyun rakhti hain
Aurtein apne dukh ki virasat kis ko dengi
Sandooqon mein band ye zevar kyun rakhti hain
Wo jo aap hi pooji jaane ke layiq thin
Champa si poron mein patthar kyun rakhti hain
Wo jo rahi hain khaali pet aur nange paaon
Bacha bacha kar sar ki chadar kyun rakhti hain
Band haveli mein jo sanihe ho jaate hain
Un ki khabar deewaren aksar kyun rakhti hain
Subah visal ki kirnein hum se poochh rahi hain
Raatein apne haath mein khanjar kyun rakhti hain
عشرت آفرین، جن کا اصل نام عشرت جہان ہے، اردو ادب کی ایک ممتاز شاعرہ اور ادبی شخصیت ہیں۔ وہ 25 دسمبر 1956ء کو کراچی میں پیدا ہوئیں اور اپنے گھرانے میں سب سے بڑی بچی تھیں۔ کم عمری سے ہی ادب سے لگاؤ رکھنے والی عشرت آفرین نے ابتدائی تعلیم کراچی میں حاصل کی اور بعد میں جامعہ کراچی سے ایم۔اے۔ اردو ادب کی ڈگری حاصل کی۔ ان کے ابتدائی اشعار صرف 14 سال کی...
مکمل تعارف پڑھیں