عمر بھر کا یاد ہے بس ایک افسانہ مجھے
میں نے پہچانا جسے اس نے نہ پہچانا مجھے
انجمن کی انجمن مجھ سے مخاطب ہو گئی
آپ نے دیکھا تھا شاید بے نیازانہ مجھے
پہلے دیوانہ کہا کرتے تھے لیکن آج کل
لوگ کہتے ہیں سراپا تیرا افسانہ مجھے
گاہے گاہے ذکر کر لینے سے کیا یاد آئے گا
یاد ہی رکھنا مجھے یا بھول ہی جانا مجھے
خواب ہی دیکھا ہے لیکن ہائے کس لذت کا خواب
وہ مرے گھر تیرا آنا اور بہلانا مجھے
جمیل الدین عالی
Umar bhar ka yaad hai bas ek afsana mujhe
Main ne pehchana jise us ne na pehchana mujhe
Anjuman ki anjuman mujh se mukhatib ho gayi
Aap ne dekha tha shayad be-niyazana mujhe
Pehle deewana kaha karte the lekin aaj kal
Log kehte hain sarapa tera afsana mujhe
Gaahe gaahe zikr kar lene se kya yaad aayega
Yaad hi rakhna mujhe ya bhool hi jaana mujhe
Khwab hi dekha hai lekin haaye kis lazzat ka khwab
Woh mere ghar tera aana aur behlana mujhe
جمیل الدین عالی، جن کا اصل نام میرزا جمیل الدین احمد خان تھا، اردو کے ممتاز شاعر، نغمہ نگار، کالم نگار، دانشور اور قومی شعور کے علمبردار تھے۔ وہ 20 جنوری 1925ء کو دہلی میں ایک معزز اور ادبی خانوادے میں پیدا ہوئے۔ ان کے دادا نواب علا الدین احمد، مرزا غالب کے ہم عصر اور شاگرد تھے جبکہ والد سر امیر الدین احمد خان بھی علم و ادب سے وابستہ شخصیت تھے۔...
مکمل تعارف پڑھیں