search
شعرا
ایکس سپیس
سپیکرز
رابطہ
جان نثار اختر
شاعر
تعارف
شاعری
کلام
زلفیں سینہ ناف کمر
زندگی یہ تو نہیں تجھ کو سنوارا ہی نہ ہو
زندگی تجھ کو بھلایا ہے بہت دن ہم نے
ذرا سی بات پہ ہر رسم توڑ آیا تھا
زمیں ہوگی کسی قاتل کا داماں ہم نہ کہتے تھے
وہ لوگ ہی ہر دور میں محبوب رہے ہیں
وہ ہم سے آج بھی دامن کشاں چلے ہے میاں
افق اگرچہ پگھلتا دکھائی پڑتا ہے
تو اس قدر مجھے اپنے قریب لگتا ہے
تمہارے جشن کو جشن فروزاں ہم نہیں کہتے
تم پہ کیا بیت گئی کچھ تو بتاؤ یارو
طلوع صبح ہے نظریں اٹھا کے دیکھ ذرا
تمام عمر عذابوں کا سلسلہ تو رہا
صبح کے درد کو راتوں کی جلن کو بھولیں
سو چاند بھی چمکیں گے تو کیا بات بنے گی
رنج و غم مانگے ہے اندوہ و بلا مانگے ہے
مجھے معلوم ہے میں ساری دنیا کی امانت ہوں
مدت ہوئی اس جان حیا نے ہم سے یہ اقرار کیا
موج گل موج صبا موج سحر لگتی ہے
میکشی اب مری عادت کے سوا کچھ بھی نہیں
مانا کہ رنگ رنگ ترا پیرہن بھی ہے
لوگ کہتے ہیں کہ تو اب بھی خفا ہے مجھ سے
لاکھ آوارہ سہی شہروں کے فٹ پاتھوں پہ ہم
خود بہ خود مے ہے کہ شیشے میں بھری آوے ہے
جسم کی ہر بات ہے آوارگی یہ مت کہو
جب لگیں زخم تو قاتل کو دعا دی جائے
حوصلہ کھو نہ دیا تیری نہیں سے ہم نے
ہر ایک شخص پریشان و در بدر سا لگے
ہر ایک روح میں اک غم چھپا لگے ہے مجھے
ہم سے بھاگا نہ کرو دور غزالوں کی طرح
ہم نے کاٹی ہیں تری یاد میں راتیں اکثر
دل کو ہر لمحہ بچاتے رہے جذبات سے ہم
دیدہ و دل میں کوئی حسن بکھرتا ہی رہا
چونک چونک اٹھتی ہے محلوں کی فضا رات گئے
بہت دل کر کے ہونٹوں کی شگفتہ تازگی دی ہے
اشعار مرے یوں تو زمانے کے لیے ہیں
اے درد عشق تجھ سے مکرنے لگا ہوں میں
اچھا ہے ان سے کوئی تقاضا کیا نہ جائے
آنکھیں چرا کے ہم سے بہار آئے یہ نہیں
آج مدت میں وہ یاد آئے ہیں
آہٹ سی کوئی آئے تو لگتا ہے کہ تم ہو
آئے کیا کیا یاد نظر جب پڑتی ان دالانوں پر