کیف بھوپالی — شاعر کی تصویر

ہم ان کو چھین کر لائے ہیں کتنے دعوے داروں سے — کیف بھوپالی

شاعر

تعارف شاعری

ہم ان کو چھین کر لائے ہیں کتنے دعوے داروں سے

ہم ان کو چھین کر لائے ہیں کتنے دعوے داروں سے
شفق سے چاندنی راتوں سے پھولوں سے ستاروں سے
ہمارے زخم دل داغ جگر کچھ ملتے جلتے ہیں
گلوں سے گل رخوں سے مہوشوں سے ماہ پاروں سے
زمانے میں کبھی بھی قسمتیں بدلا نہیں کرتیں
امیدوں سے بھروسوں سے دلاسوں سے سہاروں سے
سنے کوئی تو اب بھی روشنی آواز دیتی ہے
گپھاؤں سے پہاڑوں سے بیابانوں سے غاروں سے
برابر ایک پیاسی روح کی آواز آتی ہے
کنوؤں سے پن گھٹوں سے ندیوں سے آبشاروں سے
کبھی پتھر کے دل اے کیفؔ پگھلے ہیں نہ پگھلیں گے
مناجاتوں سے فریادوں سے چیخوں سے پکاروں سے

Hum un ko chheen kar laaye hain kitne daawedaaron se

Hum un ko chheen kar laaye hain kitne daawedaaron se
Shafaq se chandni raaton se phoolon se sitaron se
Hamare zakhm-e-dil daagh-e-jigar kuch milte julte hain
Gulon se gul-rukhon se mehwashon se mah-paaron se
Zamane mein kabhi bhi qismatein badla nahin kartin
Umeedon se bharoson se dilason se saharon se
Sune koi to ab bhi roshni awaz deti hai
Gufaon se pahadon se biyabanon se gharon se
Barabar ek piyasi rooh ki awaz aati hai
Kunwon se pan-ghaton se nadiyon se aabsharon se
Kabhi patthar ke dil aye Kaif pighle hain na pighlenge
Munajaton se faryadon se cheekhon se pukaron se

شاعر کے بارے میں

کیف بھوپالی

کیف بھوپالی اردو ادب کے اُن معتبر اور باوقار شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی سادہ مگر اثر انگیز شاعری سے اہلِ ذوق کے دلوں میں مستقل جگہ بنائی۔...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام