کیف بھوپالی — شاعر کی تصویر

تم سے نہ مل کے خوش ہیں وہ دعویٰ کدھر گیا — کیف بھوپالی

شاعر

تعارف شاعری

تم سے نہ مل کے خوش ہیں وہ دعویٰ کدھر گیا

تم سے نہ مل کے خوش ہیں وہ دعویٰ کدھر گیا
دو روز میں گلاب سا چہرہ اتر گیا
جان بہار تم نے وہ کانٹے چبھوئے ہیں
میں ہر گل شگفتہ کو چھونے سے ڈر گیا
اس دل کے ٹوٹنے کا مجھے کوئی غم نہیں
اچھا ہوا کہ پاپ کٹا درد سر گیا
میں بھی سمجھ رہا ہوں کہ تم تم نہیں رہے
تم بھی یہ سوچ لو کہ مرا کیفؔ مر گیا

Tum se na mil ke khush hain wo daawa kidhar gaya

Tum se na mil ke khush hain wo daawa kidhar gaya
Do roz mein gulab sa chehra utar gaya
Jaan-e-bahaar tum ne wo kaante chubhoe hain
Main har gul-e-shagufta ko chhoone se dar gaya
Is dil ke tootne ka mujhe koi gham nahin
Achha hua ke paap kata dard-e-sar gaya
Main bhi samajh raha hoon ke tum tum nahin rahe
Tum bhi ye soch lo ke mera kaif mar gaya

شاعر کے بارے میں

کیف بھوپالی

کیف بھوپالی اردو ادب کے اُن معتبر اور باوقار شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی سادہ مگر اثر انگیز شاعری سے اہلِ ذوق کے دلوں میں مستقل جگہ بنائی۔...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام