آج سوچا تو آنسو بھر آئے
مدتیں ہو گئیں مسکرائے
ہر قدم پر ادھر مڑ کے دیکھا
ان کی محفل سے ہم اٹھ تو آئے
رہ گئی زندگی درد بن کے
درد دل میں چھپائے چھپائے
دل کی نازک رگیں ٹوٹتی ہیں
یاد اتنا بھی کوئی نہ آئے
کیفی اعظمی
Muddatein ho gayin muskuraye
Har qadam par idhar mud ke dekha
Unki mehfil se hum uth to aaye
Reh gayi zindagi dard ban ke
Dard dil mein chhupaye chhupaye
Dil ki nazuk ragein toot-ti hain
Yaad itna bhi koi na aaye
کیفی اعظمی (اصل نام: سیّد اطہر حسین رضوی) اردو ادب کے ان درخشاں ستاروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے شاعری، نغمہ نگاری اور فکری جدوجہد کو یکجا کر کے ایک بھرپور ادبی و سماجی روایت قائم کی۔ وہ 14 جنوری 1919ء کو مجواں، ضلع اعظم گڑھ (اترپردیش) میں ایک مذہبی زمیندار گھرانے میں پیدا ہوئے۔ کم عمری ہی سے شعر و ادب سے شغف تھا اور صرف 11 برس کی عمر میں پہلی ...
مکمل تعارف پڑھیں