کیفی اعظمی — شاعر کی تصویر

جو وہ مرے نہ رہے میں بھی کب کسی کا رہا — کیفی اعظمی

شاعر

تعارف شاعری

جو وہ مرے نہ رہے میں بھی کب کسی کا رہا

جو وہ مرے نہ رہے میں بھی کب کسی کا رہا
بچھڑ کے ان سے سلیقہ نہ زندگی کا رہا
لبوں سے اڑ گیا جگنو کی طرح نام اس کا
سہارا اب مرے گھر میں نہ روشنی کا رہا
گزرنے کو تو ہزاروں ہی قافلے گزرے
زمیں پہ نقش قدم بس کسی کسی کا رہا

Jo woh mere na rahe main bhi kab kisi ka raha

Bichhad ke un se saleeqa na zindagi ka raha
Labon se ud gaya jugnu ki tarah naam uska
Sahara ab mere ghar mein na roshni ka raha
Guzarne ko to hazaron hi qaafle guzre
Zameen pe naqsh-e-qadam bas kisi kisi ka raha

شاعر کے بارے میں

کیفی اعظمی

کیفی اعظمی (اصل نام: سیّد اطہر حسین رضوی) اردو ادب کے ان درخشاں ستاروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے شاعری، نغمہ نگاری اور فکری جدوجہد کو یکجا کر کے ایک بھرپور ادبی و سماجی روایت قائم کی۔ وہ 14 جنوری 1919ء کو مجواں، ضلع اعظم گڑھ (اترپردیش) میں ایک مذہبی زمیندار گھرانے میں پیدا ہوئے۔ کم عمری ہی سے شعر و ادب سے شغف تھا اور صرف 11 برس کی عمر میں پہلی ...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام