پتھر کے خدا وہاں بھی پائے
ہم چاند سے آج لوٹ آئے
دیواریں تو ہر طرف کھڑی ہیں
کیا ہو گئے مہربان سائے
جنگل کی ہوائیں آ رہی ہیں
کاغذ کا یہ شہر اڑ نہ جائے
لیلیٰ نے نیا جنم لیا ہے
ہے قیس کوئی جو دل لگائے
ہے آج زمیں کا غسل صحت
جس دل میں ہو جتنا خون لائے
صحرا صحرا لہو کے خیمے
پھر پیاسے لب فرات آئے
کیفی اعظمی
Hum chand se aaj laut aaye
Deewarein to har taraf khari hain
Kya ho gaye mehraban saye
Jungle ki hawain aa rahi hain
Kaghaz ka yeh shehar ud na jaye
Laila ne naya janam liya hai
Hai Qais koi jo dil lagaye
Hai aaj zameen ka ghusl-e-sehat
Jis dil mein ho jitna khoon laye
Sehra sehra lahu ke khaime
Phir pyase lab-e-furaat aaye
کیفی اعظمی (اصل نام: سیّد اطہر حسین رضوی) اردو ادب کے ان درخشاں ستاروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے شاعری، نغمہ نگاری اور فکری جدوجہد کو یکجا کر کے ایک بھرپور ادبی و سماجی روایت قائم کی۔ وہ 14 جنوری 1919ء کو مجواں، ضلع اعظم گڑھ (اترپردیش) میں ایک مذہبی زمیندار گھرانے میں پیدا ہوئے۔ کم عمری ہی سے شعر و ادب سے شغف تھا اور صرف 11 برس کی عمر میں پہلی ...
مکمل تعارف پڑھیں