کیفی اعظمی — شاعر کی تصویر

شور یوں ہی نہ پرندوں نے مچایا ہوگا — کیفی اعظمی

شاعر

تعارف شاعری

شور یوں ہی نہ پرندوں نے مچایا ہوگا

شور یوں ہی نہ پرندوں نے مچایا ہوگا
کوئی جنگل کی طرف شہر سے آیا ہوگا
پیڑ کے کاٹنے والوں کو یہ معلوم تو تھا
جسم جل جائیں گے جب سر پہ نہ سایہ ہوگا
بانیٔ جشن بہاراں نے یہ سوچا بھی نہیں
کس نے کانٹوں کو لہو اپنا پلایا ہوگا
بجلی کے تار پہ بیٹھا ہوا ہنستا پنچھی
سوچتا ہے کہ وہ جنگل تو پرایا ہوگا
اپنے جنگل سے جو گھبرا کے اڑے تھے پیاسے
ہر سراب ان کو سمندر نظر آیا ہوگا

Shor yun hi na parindon ne machaya hoga

Koi jungle ki taraf shehar se aaya hoga
Per ke kaatne walon ko yeh maloom to tha
Jism jal jayeinge jab sar pe na saya hoga
Bani-e-jashn-e-baharan ne yeh socha bhi nahin
Kis ne kaanton ko lahu apna pilaya hoga
Bijli ke taar pe baitha hua hansta panchhi
Sochta hai ke woh jungle to paraya hoga
Apne jungle se jo ghabra ke ude the pyase
Har sarab unko samundar nazar aaya hoga

شاعر کے بارے میں

کیفی اعظمی

کیفی اعظمی (اصل نام: سیّد اطہر حسین رضوی) اردو ادب کے ان درخشاں ستاروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے شاعری، نغمہ نگاری اور فکری جدوجہد کو یکجا کر کے ا...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام