تم اتنا جو مسکرا رہے ہو
کیا غم ہے جس کو چھپا رہے ہو
آنکھوں میں نمی ہنسی لبوں پر
کیا حال ہے کیا دکھا رہے ہو
بن جائیں گے زہر پیتے پیتے
یہ اشک جو پیتے جا رہے ہو
جن زخموں کو وقت بھر چلا ہے
تم کیوں انہیں چھیڑے جا رہے ہو
ریکھاؤں کا کھیل ہے مقدر
ریکھاؤں سے مات کھا رہے ہو
کیفی اعظمی
Kya gham hai jis ko chhupa rahe ho
Aankhon mein nami hansi labon par
Kya haal hai kya dikha rahe ho
Ban jayeinge zehar peete peete
Yeh ashk jo peete ja rahe ho
Jin zakhmon ko waqt bhar chala hai
Tum kyun unhein chherhe ja rahe ho
Rekhaon ka khel hai muqaddar
Rekhaon se maat kha rahe ho
کیفی اعظمی (اصل نام: سیّد اطہر حسین رضوی) اردو ادب کے ان درخشاں ستاروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے شاعری، نغمہ نگاری اور فکری جدوجہد کو یکجا کر کے ایک بھرپور ادبی و سماجی روایت قائم کی۔ وہ 14 جنوری 1919ء کو مجواں، ضلع اعظم گڑھ (اترپردیش) میں ایک مذہبی زمیندار گھرانے میں پیدا ہوئے۔ کم عمری ہی سے شعر و ادب سے شغف تھا اور صرف 11 برس کی عمر میں پہلی ...
مکمل تعارف پڑھیں