دھڑکتا جاتا ہے دل مسکرانے والوں کا
اٹھا نہیں ہے ابھی اعتبار نالوں کا
یہ مختصر سی ہے روداد صبح مے خانہ
زمیں پہ ڈھیر تھا ٹوٹے ہوئے پیالوں کا
یہ خوف ہے کہ صبا لڑکھڑا کے گر نہ پڑے
پیام لے کے چلی ہے شکستہ حالوں کا
نہ آئیں اہل خرد وادئ جنوں کی طرف
یہاں گزر نہیں دامن بچانے والوں کا
لپٹ لپٹ کے گلے مل رہے تھے خنجر سے
بڑے غضب کا کلیجہ تھا مرنے والوں کا
Dhaṛakta jaata hai dil muskurane walon ka
Uṭha nahin hai abhi aitbar nalon ka
Yeh mukhtasar si hai rūdad-e-subh-e-may-khana
Zameen pe ḍher tha ṭooṭe hue piyalon ka
Yeh khauf hai ke saba laṛkhaṛa ke gir na paṛe
Payam le ke chali hai shikasta halon ka
Na aayen ahl-e-khirad wadi-e-junoon ki taraf
Yahan guzar nahin daman bachane walon ka
Lipaṭ lipaṭ ke gale mil rahe the khanjar se
Baṛe ghazab ka kaleja tha marne walon ka
اردو کے ممتاز غزل گو شاعر کلیم عاجز کا اصل نام کلیم احمد تھا۔ ان کی پیدائش کے متعلق مختلف معتبر ذرائع میں 11 اکتوبر 1926 کا سن درج ہے، تاہم تمام م...
مکمل تعارف پڑھیں