مری مستی کے افسانے رہیں گے
جہاں گردش میں پیمانے رہیں گے
نکالے جائیں گے اہل محبت
اب اس محفل میں بیگانے رہیں گے
یہی انداز مے نوشی رہے گا
تو یہ شیشے نہ پیمانے رہیں گے
رہے گا سلسلہ دار و رسن کا
جہاں دو چار دیوانے رہیں گے
جنہیں گلشن میں ٹھکرایا گیا ہے
انہی پھولوں کے افسانے رہیں گے
خرد زنجیر پہناتی رہے گی
جو دیوانے ہیں دیوانے رہیں گے
Meri masti ke afsane rahenge
Jahan gardish mein paimane rahenge
Nikale jayenge ahl-e-mohabbat
Ab is mahfil mein begane rahenge
Yehi andaz may-noshi rahega
To yeh sheeshe na paimane rahenge
Rahega silsila dar o rasan ka
Jahan do char deewane rahenge
Jinhein gulshan mein ṭhukraya gaya hai
Inhi phoolon ke afsane rahenge
Khirad zanjeer pehnati rahegi
Jo deewane hain deewane rahenge
اردو کے ممتاز غزل گو شاعر کلیم عاجز کا اصل نام کلیم احمد تھا۔ ان کی پیدائش کے متعلق مختلف معتبر ذرائع میں 11 اکتوبر 1926 کا سن درج ہے، تاہم تمام م...
مکمل تعارف پڑھیں