کلیم عاجز — شاعر کی تصویر

یہ آنسو بے سبب جاری نہیں ہے — کلیم عاجز

شاعر

تعارف شاعری

یہ آنسو بے سبب جاری نہیں ہے

یہ آنسو بے سبب جاری نہیں ہے
مجھے رونے کی بیماری نہیں ہے
نہ پوچھو زخم ہائے دل کا عالم
چمن میں ایسی گل کاری نہیں ہے
بہت دشوار سمجھانا ہے غم کا
سمجھ لینے میں دشواری نہیں ہے
غزل ہی گنگنانے دو کہ مجھ کو
مزاج تلخ گفتاری نہیں ہے
چمن میں کیوں چلوں کانٹوں سے بچ کر
یہ آئین وفاداری نہیں ہے
وہ آئیں قتل کو جس روز چاہیں
یہاں کس روز تیاری نہیں ہے

Yeh aansoo be-sabab jari nahin hai

Yeh aansoo be-sabab jari nahin hai
Mujhe rone ki beemari nahin hai
Na poochho zakhm haay-e-dil ka alam
Chaman mein aisi gul-kari nahin hai
Bahut dushwar samjhana hai gham ka
Samajh lene mein dushwari nahin hai
Ghazal hi gungunane do ke mujh ko
Mizaj-e-talkh guftari nahin hai
Chaman mein kyon chalun kaanton se bach kar
Yeh aain-e-wafadari nahin hai
Woh aayen qatl ko jis roz chahen
Yahan kis roz taiyari nahin hai

شاعر کے بارے میں

کلیم عاجز

اردو کے ممتاز غزل گو شاعر کلیم عاجز کا اصل نام کلیم احمد تھا۔ ان کی پیدائش کے متعلق مختلف معتبر ذرائع میں 11 اکتوبر 1926 کا سن درج ہے، تاہم تمام متفقہ ریکارڈ کے مطابق وہ تلہارا (Telhara)، ضلع نالندا، بہار (بھارت) میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنے بچپن اور لڑکپن کی تعلیم اسی خطے میں حاصل کی، پھر پٹنہ یونیورسٹی سے بی اے میں گولڈ میڈل حاصل کیا۔ بعد ازا...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام