یہ دیوانے کبھی پابندیوں کا غم نہیں لیں گے
گریباں چاک جب تک کر نہ لیں گے دم نہیں لیں گے
لہو دیں گے تو لیں گے پیار موتی ہم نہیں لیں گے
ہمیں پھولوں کے بدلے پھول دو شبنم نہیں لیں گے
یہ غم کس نے دیا ہے پوچھ مت اے ہم نشیں ہم سے
زمانہ لے رہا ہے نام اس کا ہم نہیں لیں گے
محبت کرنے والے بھی عجب خوددار ہوتے ہیں
جگر پر زخم لیں گے زخم پر مرہم نہیں لیں گے
غم دل ہی کے ماروں کو غم ایام بھی دے دو
غم اتنا لینے والے کیا اب اتنا غم نہیں لیں گے
سنوارے جا رہے ہیں ہم الجھتی جاتی ہیں زلفیں
تم اپنے ذمہ لو اب یہ بکھیڑا ہم نہیں لیں گے
شکایت ان سے کرنا گو مصیبت مول لینا ہے
مگر عاجزؔ غزل ہم بے سنائے دم نہیں لیں گے
Yeh deewane kabhi pabandiyon ka gham nahin lenge
Gireban chaak jab tak kar na lenge dam nahin lenge
Lahu denge to lenge pyar moti hum nahin lenge
Hamein phoolon ke badle phool do shabnam nahin lenge
Yeh gham kis ne diya hai poochh mat ae ham-nasheen hum se
Zamana le raha hai naam us ka hum nahin lenge
Mohabbat karne wale bhi ajab khud-dar hote hain
Jigar par zakhm lenge zakhm par marham nahin lenge
Gham dil hi ke maron ko gham-e-ayyām bhi de do
Gham itna lene wale kya ab itna gham nahin lenge
Sanware ja rahe hain hum ulajhti jati hain zulfain
Tum apne zimma lo ab yeh bakheṛa hum nahin lenge
Shikayat un se karna go musibat mol lena hai
Magar 'Ajiz ghazal hum be sunae dam nahin lenge
اردو کے ممتاز غزل گو شاعر کلیم عاجز کا اصل نام کلیم احمد تھا۔ ان کی پیدائش کے متعلق مختلف معتبر ذرائع میں 11 اکتوبر 1926 کا سن درج ہے، تاہم تمام م...
مکمل تعارف پڑھیں