یوں ہی ٹھہری کہ ابھی جائیے گا
بات جو ہو گی، سو فرمائیے گا
میں جو پوچھا، کبھو آؤ گے؟ کہا
جی میں آ جائے گی، تو آئیے گا
میں خُدا جانے یہ کیا دیکھوں ہوں
آپ کچھ جی میں نہ بھرمائیے گا
میری ہونے سے عبث رُکتے ہو
پھر اکیلے بھی تو گھبرائیے گا
کہیں ہم کو بھی، بھلا لوگوں میں
پھرتے چلتے نظر آئیے گا
درد! ہم اس کو تو سمجھائیں گے پر
اپنے تئیں آپ بھی سمجھائیے گا
YooN hi thehri ke abhi jaaiye ga
Baat jo hogi, so farmaaiye ga
MaiN jo poochha, kabhi aao ge? Kaha
Jee meiN aa jaayegi, to aaiye ga
MaiN Khuda jaane yeh kya dekhooN hooN
Aap kuch jee meiN na bharmaaiye ga
Meri hone se abas rukte ho
Phir akele bhi to ghabraaiye ga
KahiN hum ko bhi, bhala logoN meiN
Phirte chalte nazar aaiye ga
Dard! hum us ko to samjhaayeN ge par
Apne taiN aap bhi samjhaaiye ga
خواجہ میر درد اردو ادب کے ممتاز صوفی شاعر اور فلسفی تھے جنہوں نے 1721ء میں دہلی، ہندوستان میں جنم لیا۔ ان کا اصل نام میر محمد تھا لیکن صوفی حلقوں م...
مکمل تعارف پڑھیں