کومل جوئیہ — شاعر کی تصویر

وہ جو مطیعِ دل نہ تھے قائل دماغ کے — کومل جوئیہ

شاعر

تعارف شاعری

وہ جو مطیعِ دل نہ تھے قائل دماغ کے

وہ جو مطیعِ دل نہ تھے قائل دماغ کے
ُسن ہی نہیں رہے ہیں دلائل دماغ کے
یہ عشق کا خلل بھی اگر آگیا تو کیا
ویسے بھی سینکڑوں ہیں مسائل دماغ کے
کیا ہے اگر وہ آکے کہے " تم سے پیار ہے"
اور کر دے سارے وسوسے زائل ، دماغ کے
ہم خود ہی چاہتے تھے ہرا ہی رہے فتور
سو زخم لاعلاج ہیں گھائل دماغ کے
شہرِ جنوں کو جاتے ہوئے رک گئے تھے ہم
کچھ مشورے تھے راہ میں حائل دماغ کے

وہ جو مطیعِ دل نہ تھے قائل دماغ کے

Woh jo muti-e-dil na the qail dimagh ke
Sun hi nahin rahe hain dalail dimagh ke
Yeh ishq ka khalal bhi agar aa gaya toh kya
Waise bhi sainkadon hain masail dimagh ke
Kya hai agar woh aa ke kahe "tum se pyaar hai"
Aur kar de saare waswase zaail, dimagh ke
Hum khud hi chahte the hara hi rahe fitoor
So zakhm laa-ilaaj hain ghaayal dimagh ke
Shehr-e-junoon ko jaate hue ruk gaye the hum
Kuch mashware the raah mein haail dimagh ke

شاعر کے بارے میں

کومل جوئیہ

کومل جوئیہ، جن کا اصل نام شازیہ علی ہے، جنوبی پنجاب کے ادبی ذوق رکھنے والے شہر کبیر والا/خانوال سے تعلق رکھتی ہیں۔ ۹ نومبر ۱۹۸۳ کو پیدا ہونے والی ی...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام