کرشن موہن — شاعر کی تصویر

کرشن موہن کا تعارف، احوال زندگی اور سرگزشت

شاعر

تعارف شاعری

تعارف

کرشنؔ موہن (اصل نام: کرشن لال بھاٹیا) اردو کے معروف اور معتبر شعرا میں شمار ہوتے ہیں، جن کی پیدائش 28 نومبر 1922ء کو سیالکوٹ (برطانوی ہندوستان) میں ایک علمی و ادبی گھرانے میں ہوئی۔ ان کے والد گنپت رائے بھاٹیا خود بھی شاعر تھے اور “شاکرؔ” کے تخلص سے شعر کہتے تھے، جس کا اثر کرشنؔ موہن کی فکری و ادبی تربیت پر نمایاں طور پر پڑا۔ ابتدائی تعلیم سیالکوٹ ہی میں حاصل کی، بعد ازاں مرے کالج سیالکوٹ سے انگریزی اور فارسی میں بی اے (آنرز) کیا اور اسی دوران کالج میگزین کی ادارت بھی سنبھالی۔ پھر گورنمنٹ کالج لاہور سے انگریزی ادب میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی، جس نے ان کی علمی بصیرت اور ادبی شعور کو مزید جِلا بخشی۔

کرشنؔ موہن کی شاعری اپنے اندر گہری روحانیت، انسانی محبت اور مذہبی ہم آہنگی کا پیغام لیے ہوئے ہے۔ ایک ہندو شاعر ہونے کے باوجود انہوں نے اسلامی اور صوفیانہ موضوعات، خصوصاً عشقِ رسول ﷺ، کو نہایت عقیدت اور خلوص کے ساتھ اپنی شاعری کا حصہ بنایا، جو ان کے وسیع المشرب اور انسان دوست فکر کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کے کلام میں وحدتِ انسانیت، باطنی کیفیات اور اخلاقی اقدار کو بڑی سادگی اور اثر انگیزی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے، جس کے باعث ان کی شاعری دلوں پر براہِ راست اثر ڈالتی ہے اور قاری کو فکری گہرائی میں لے جاتی ہے۔

تقسیمِ ہند کے بعد کرشنؔ موہن بھارت منتقل ہو گئے اور دہلی کو اپنی مستقل سکونت بنایا، جہاں انہوں نے تاحیات ادبی خدمات انجام دیں۔ وہ اردو ادب کی اس روایت کے امین تھے جسے گنگا-جمنی تہذیب کہا جاتا ہے، جہاں مختلف مذاہب اور ثقافتیں باہم ہم آہنگ ہو کر ایک مشترکہ ادبی ورثہ تشکیل دیتی ہیں۔ کرشنؔ موہن کا انتقال 27 جنوری 2004ء کو دہلی میں ہوا، مگر ان کی شاعری آج بھی اردو ادب میں محبت، رواداری اور روحانیت کی ایک روشن علامت کے طور پر زندہ ہے۔