مسعودہ حیات اردو کی معروف شاعرہ ہیں جنہوں نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں اور حساس طرزِ اظہار کے ذریعے اردو ادب میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ 1935ء میں دہلی میں پیدا ہونے والی مسعودہ حیات نے تدریس کے شعبے سے وابستہ رہتے ہوئے ادب کی خدمت کو بھی اپنی زندگی کا اہم مقصد بنایا۔ ان کی شخصیت میں ایک معلم کی سنجیدگی اور ایک شاعرہ کی لطافت یکجا نظر آتی ہے، جس کا عکس ان کی شاعری میں بھی نمایاں طور پر دکھائی دیتا ہے۔
ِمسعودہ حیات کی شاعری کا دائرۂ کار وسیع ہے۔ انہوں نے غزل اور نظم دونوں اصناف میں طبع آزمائی کی اور محبت، یاد، ہجر، انسانی جذبات، وقت کی تبدیلیوں اور معاشرتی مسائل کو اپنے کلام کا موضوع بنایا۔ ان کی شاعری سادہ، رواں اور پُرتأثیر زبان کی حامل ہے جس میں احساس کی صداقت اور جذبے کی گہرائی نمایاں نظر آتی ہے۔ کلاسیکی شعری روایت سے وابستگی کے ساتھ ساتھ جدید حسیت بھی ان کے کلام کا اہم وصف ہے، جس کے باعث ان کی شاعری سنجیدہ ادبی حلقوں اور عام قارئین دونوں میں مقبول رہی۔
ِان کے شعری مجموعوں بوئے سمن (1981ء) اور تصویرِ وطن (1992ء) کو اردو شاعری میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ مسعودہ حیات نے صرف ذاتی اور رومانوی موضوعات تک خود کو محدود نہیں رکھا بلکہ قومی، سماجی اور بچوں کے ادب کے لیے بھی قابلِ ذکر تخلیقات پیش کیں۔ اردو کی ان شاعرات میں ان کا شمار ہوتا ہے جنہوں نے خاموش مگر مسلسل ادبی خدمات انجام دے کر نسائی ادب کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کا کلام اپنی سادگی، فکری پختگی اور انسانی احساسات کے دل نشیں اظہار کے باعث اردو ادب کے قیمتی سرمائے کا حصہ ہے۔