میں چپ رہا کہ زہر یہی مجھ کو راس تھا
وہ سنگ لفظ پھینک کے کتنا اداس تھا
اکثر مری قبا پہ ہنسی آ گئی جسے
کل مل گیا تو وہ بھی دریدہ لباس تھا
میں ڈھونڈھتا تھا دور خلاؤں میں ایک جسم
چہروں کا اک ہجوم مرے آس پاس تھا
تم خوش تھے پتھروں کو خدا جان کے مگر
مجھ کو یقین ہے وہ تمہارا قیاس تھا
بخشا ہے جس نے روح کو زخموں کا پیرہن
محسنؔ وہ شخص کتنا طبیعت شناس تھا
محسن نقوی
Maiñ chup rahā ki zahr yahī mujh ko raas thā
Vo sang-e-lafz pheñk ke kitnā udās thā
Aksar merī qabā pe hañsī ā ga.ī jise
Kal mil gayā to vo bhī darīda libās thā
Maiñ ḍhūñḍhtā thā dūr ḳhalāoñ meñ ek jism
Chehroñ kā ik hujūm mere ās pās thā
Tum ḳhush the pattharoñ ko ḳhudā jān ke magar
Mujh ko yaqīn hai vo tumhārā qayās thā
Baḳhshā hai jis ne ruuh ko zaḳhmoñ kā pairahan
'Mohsin' vo shaḳhs kitnā tabī'at-shanās thā
سید محسن نقوی (اصل نام: سید غلام عباس نقوی) اردو کے ان ممتاز اور اثر انگیز شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے مختصر عمر میں گہرا اور دیرپا ادبی نقش چھوڑا۔ وہ 5 مئی 1947ء کو ڈیرہ غازی خان میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر میں حاصل کی، بعد ازاں ملتان سے گریجویشن اور پنجاب یونیورسٹی لاہور سے ایم اے اردو کیا۔ تعلیم کے دوران ہی ان کی شاعرانہ ص...
مکمل تعارف پڑھیں