search
شعرا
ایکس سپیس
سپیکرز
ہمارے متعلق
رابطہ کیجیے
محسن نقوی
شاعر
تعارف
شاعری
کلام
الہام کی رم جھم کہیں بخشش کی گھٹا ہے
میں تو کہتا تھا
جستجو میں تیری پھرتا ہوں نجانے کب سے؟
قتل چھپتے تھے کبھی سنگ کی دیوار کے بیچ
شب ڈھلی چاند بھی نکلے تو سہی
ہم نے غزلوں میں تمہیں ایسے پکارا محسن
خواب بکھرے ہیں سہانے کیا کیا
میں نفرتوں کے جہاں میں رہ کر جدا کروں گا تو کیا کروں گا
ذکر شب فراق سے وحشت اسے بھی تھی
زخم کے پھول سے تسکین طلب کرتی ہے
زباں رکھتا ہوں لیکن چپ کھڑا ہوں
یہ کہہ گئے ہیں مسافر لٹے گھروں والے
یہ دل یہ پاگل دل مرا کیوں بجھ گیا آوارگی
وہ دلاور جو سیہ شب کے شکاری نکلے
اجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کر
اجڑ اجڑ کے سنورتی ہے تیرے ہجر کی شام
ترے بدن سے جو چھو کر ادھر بھی آتا ہے
سارے لہجے ترے بے زماں ایک میں
سانسوں کے اس ہنر کو نہ آساں خیال کر
قتل چھپتے تھے کبھی سنگ کی دیوار کے بیچ
پھر وہی میں ہوں وہی شہر بدر سناٹا
نیا ہے شہر نئے آسرے تلاش کروں
میں کل تنہا تھا خلقت سو رہی تھی
میں دل پہ جبر کروں گا تجھے بھلا دوں گا
میں چپ رہا کہ زہر یہی مجھ کو راس تھا
معرکہ اب کے ہوا بھی تو پھر ایسا ہوگا
لبوں پہ حرف رجز ہے زرہ اتار کے بھی
کس نے سنگ خامشی پھینکا بھرے بازار پر
خمار موسم خوشبو حد چمن میں کھلا
خود اپنے دل میں خراشیں اتارنا ہوں گی
کٹھن تنہائیوں سے کون کھیلا میں اکیلا
جگنو گہر چراغ اجالے تو دے گیا
جب سے اس نے شہر کو چھوڑا ہر رستہ سنسان ہوا
جب ہجر کے شہر میں دھوپ اتری میں جاگ پڑا تو خواب ہوا
اتنی مدت بعد ملے ہو
ہوائے ہجر میں جو کچھ تھا اب کے خاک ہوا
ہر ایک شب یوں ہی دیکھیں گی سوئے در آنکھیں
ہم جو پہنچے سر مقتل تو یہ منظر دیکھا
غزلوں کی دھنک اوڑھ مرے شعلہ بدن تو
فضا کا حبس شگوفوں کو باس کیا دے گا
ایک پل میں زندگی بھر کی اداسی دے گیا
بچھڑ کے مجھ سے یہ مشغلہ اختیار کرنا
بھڑکائیں مری پیاس کو اکثر تری آنکھیں
بنام طاقت کوئی اشارہ نہیں چلے گا
عذاب دید میں آنکھیں لہو لہو کر کے
اشک اپنا کہ تمہارا نہیں دیکھا جاتا
عجیب خوف مسلط تھا کل حویلی پر
اگرچہ میں اک چٹان سا آدمی رہا ہوں
اب یہ سوچوں تو بھنور ذہن میں پڑ جاتے ہیں
اب وہ طوفاں ہے نہ وہ شور ہواؤں جیسا
اب کے بارش میں تو یہ کار زیاں ہونا ہی تھا
آپ کی آنکھ سے گہرا ہے مری روح کا زخم