کوئی کشتی میں تنہا جا رہا ہے
کسی کے ساتھ دریا جا رہا ہے
یہ بستی بھی نہ کیا راس آئی اس کو
اٹھا کر کیوں وہ خیمہ جا رہا ہے
کہیں اک بوند بھی برسا نہ پانی
کہیں بادل برستا جا رہا ہے
دیے ایک ایک کر کے بجھ رہے ہیں
اندھیرا ہے کہ بڑھتا جا رہا ہے
پہاڑ اوپر تو نیچے کھائیاں ہیں
جہاں سے ہو کے رستہ جا رہا ہے
وہ واپس لے رہا ہے قرض اپنا
ہمارے پاس سے کیا جا رہا ہے
محسن زیدی
Koi kashti mein tanha ja raha hai
Kisi ke saath darya ja raha hai
Ye basti bhi na kya raas aayi us ko
Utha kar kyun wo khaima ja raha hai
Kahin ik boond bhi barsa na paani
Kahin badal barasta ja raha hai
Diye ek ek kar ke bujh rahe hain
Andhera hai ke badhta ja raha hai
Pahar upar to neeche khayian hain
Jahan se ho ke rasta ja raha hai
Wo wapas le raha hai qarz apna
Hamare paas se kya ja raha hai
محسن زیدی، پورا نام سید محسن رضا زیدی اور قلمی نام محسن، اردو غزل کے ایک معتبر اور باوقار شاعر تھے۔ ان کی پیدائش 10 جولائی 1935ء کو بہرائچ، اتر پردیش (بھارت) میں ہوئی۔ ان کا تعلق ایک علمی و تہذیبی گھرانے سے تھا؛ والد سید علی رضا زیدی اور والدہ سغرا بیگم تھیں۔ محسن زیدی نے اپنی ابتدائی تعلیم پرتاب گڑھ میں حاصل کی، بعد ازاں لکھنؤ یونیورسٹی سے انگر...
مکمل تعارف پڑھیں