تعارف
مصطفیٰ زیدی 16 جون 1930ء کو الٰہ آباد میں ایک علمی و تہذیبی خانوادے میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام شاہ محمد مصطفیٰ خان تھا۔ والد شاہ ابوالقاسم اسلامیات، فارسی اور عربی کے جید عالم تھے، جس کا گہرا اثر ان کی فکری تربیت پر پڑا۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم گورنمنٹ ہائی اسکول الٰہ آباد سے حاصل کی، بعد ازاں الٰہ آباد یونیورسٹی سے ایم اے انگریزی ادب کیا۔ 1947ء کے بعد خاندان نے پاکستان ہجرت کی۔ نوجوانی ہی میں ان کی علمی استعداد اور ادبی ذوق نمایاں تھا، یہی وجہ ہے کہ انہوں نے 1954ء میں پاکستان سول سروس (CSP) کا امتحان نمایاں کامیابی سے پاس کیا اور مختلف اضلاع میں ڈپٹی کمشنر، ڈائریکٹر انڈسٹریز اور وفاقی سطح تک اہم عہدوں پر فائز رہے۔ انہیں ایک راست گو، قانون پسند اور غیر معمولی ذہانت رکھنے والا افسر تسلیم کیا جاتا ہے—یہی سخت مزاجی بعد میں ان کے خلاف بیوروکریٹک مخالفتوں کا سبب بھی بنی۔مصطفیٰ زیدی کی ادبی دنیا ان کے طالب علمی کے دور ہی میں بیدار ہو چکی تھی۔ انہوں نے ابتدا میں “شہاب” کے قلمی نام سے شاعری کی اور 1949ء میں پہلا مجموعہ “تخمِ سخن” شائع کیا۔ اس کے بعد “زنجیرِ باد”، “موسیٰ و فرعون”، “گمشدہ لوگ”، “کوہِ ندا” اور “نئے موسم کے پھول” جیسی کتابوں نے انہیں جدید اردو شاعری کے صفِ اوّل کے شاعر کے طور پر منوایا۔ ان کی شاعری میں کلاسیکی رمزیت، داخلی کرب، تہذیبی شائستگی، سیاسی شعور اور وجودی تنہائی ایک ساتھ جلوہ گر ہوتی ہے۔ وہ فیض، جگر اور راشد کے بعد اُس نسل کے شاعر تھے جنہوں نے غزل کو نئی فکری سمت دی۔ ان کے ہاں عشق کی شدت، شکستِ ذات، تہذیبی زوال کا نوحہ اور سماجی جبر کے خلاف مزاحمت ایک نہایت مہذب مگر سلگتے ہوئے لہجے میں ملتی ہے۔ اُن کی زبان نہایت نرم، تہذیبی اور شستہ ہے—جس میں شعور اور جذبات ایک ساتھ بہتے ہیں۔ آخری مجموعہ “کراچی کے دن، لاہور کی راتیں” ان کے فن کی بالیدگی کی معراج سمجھا جاتا ہے۔1969–70 ان کی ذاتی زندگی میں شدید انتشار کا دور تھا۔ بیوروکریسی میں ان کے خلاف جھوٹے مقدمات، سیاسی مخالفتیں، معطلی، اور سب سے بڑھ کر ایک گہرا جذباتی رشتہ—جسے تاریخ نے ’’نیلم-مصطفیٰ اسکینڈل‘‘ کے نام سے محفوظ کر لیا—ان کے ذہنی تناؤ میں اضافہ کرتے گئے۔ 12 اکتوبر 1970ء کو کراچی میں ان کی لاش ایک کمرے سے ملی۔ ان کی محبوبہ نیلم احمد بشیر پر مقدمہ چلا، مگر بعد میں بری ہو گئیں۔ زیدی کی موت بظاہر خودکشی قرار پائی، مگر ادبی حلقوں میں آج بھی اسے ایک مبہم اور سیاسی و جذباتی پیچیدگیوں میں لپٹا ہوا واقعہ سمجھا جاتا ہے۔ بعد از مرگ ان کا مجموعہ “ایّامِ آخر” شائع ہوا، جس کے اشعار ان کے اندرونی انتشار، ٹوٹتی ہوئی شخصیت، اور موت کے سایوں کی جھلک واضح کرتے ہیں۔
منتخب اشعار
یہ گُھٹا گُھٹا طوفاں ، یہ تھمی تھمی بارش رُوبُرو نہ رہ جائے
آج اس طرح رولے ، جس کے بعد رونے کی آرزو نہ رہ جائے
میں سوچتا تھا کہ بڑھتے ہوئے اندھیروں میں
افق کی موج پہ ابھرا ہوا ہلال ہو تم
کلام
- 01 یہ گُھٹا گُھٹا طوفاں ، یہ تھمی تھمی بارش رُوبُرو نہ رہ جائے Yeh ghuta ghuta toofan, yeh thami thami barish rubaru na reh jaye آواز میں دستیاب
- 02 ماہیت Maahiyat آواز میں دستیاب
- 03 دوراہا Dobaha آواز میں دستیاب
- 04 لوگ کہتے ہیں عشق کا رونا Log kehte hain ishq ka rona آواز میں دستیاب
- 05 شہناز Shehnaz آواز میں دستیاب
- 06 اس سے ملنا تو اس طرح کہنا Is se milna to is tarah kehna آواز میں دستیاب