search
شعرا
ایکس سپیس
سپیکرز
رابطہ
مصطفی زیدی
شاعر
تعارف
شاعری
کلام
یہ گُھٹا گُھٹا طوفاں ، یہ تھمی تھمی بارش رُوبُرو نہ رہ جائے
ماہیت
دوراہا
لوگ کہتے ہیں عشق کا رونا
شہناز
اس سے ملنا تو اس طرح کہنا
درد دل بھی غم دوراں کے برابر سے اٹھا
ناشناس
سُن اے حکیمِ ملت و پیغمبرِ نجات
ہونٹوں کے ماہ تاب ہیں ، آنکھوں کے بام ہیں
میرے محبوب وطن کی گلیو!
سحر جیتے گی یا شام غریباں دیکھتے رہنا
تجدید
فگار پاؤں مرے،اشک نارسا میرے
کوئی رفیق بہم ہی نہ ہو تو کیا کیجے
بنام وطن
اس سے ملنا تو اس طرح کہنا
تیرے کرم نے ، مجھے کر لیا قبول مگر
تیرے چہرے کی طرح اور مرے سینے کی طرح
ہر اک نے کہا کیُوں تجھے آرام نہ آیا
ایک شام
دیدنی
وفا کیسی؟
چلے تو کٹ ہی جائے گا سفر آہستہ آہستہ
تم ہنسو تو دن نکلے، چپ رہو تو راتیں ہیں
روح کی موت
آندھی چلی تو نقش کف پا نہیں ملا
کسی اور غم میں اتنی خلش نہاں نہیں ہے
سفر آخر شب
جب ہوا شب کو بدلتی ہوئی پہلو آئی
سینے میں خزاں آنکھوں میں برسات رہی ہے
آخری بار ملو
رات سنسان ہے
ہر اک نے کہا کیوں تجھے آرام نہ آیا