مظفر وارثی — شاعر کی تصویر

جب اپنا قافلہ عزم و یقیں سے نکلے گا — مظفر وارثی

شاعر

تعارف شاعری

جب اپنا قافلہ عزم و یقیں سے نکلے گا

جب اپنا قافلہ عزم و یقیں سے نکلے گا
جہاں سے چاہیں گے رستہ وہیں سے نکلے گا
لباس غیر نہ ہوگا بدن پہ جب اپنے
تو کوئی سانپ نہ پھر آستیں سے نکلے گا
جو آسمانوں میں بانٹے گا روشنی اپنی
وہ آفتاب اسی سرزمیں سے نکلے گا
وطن کی ریت ذرا ایڑیاں رگڑنے دے
مجھے یقیں ہے کہ پانی یہیں سے نکلے گا
مقابلہ تو مظفرؔ کروں اندھیروں سے
چراغ بن کے پسینہ جبیں سے نکلے گا

Jab apna qafila azm-o-yaqeen se niklega

Jab apna qafila azm-o-yaqeen se niklega
Jahan se chahenge rasta waheen se niklega
Libas ghair na hoga badan pe jab apne
To koi saamp na phir aasteen se niklega
Jo aasmaanon mein baantega roshni apni
Wo aaftab isi sarzameen se niklega
Watan ki ret zara ediyan ragadne de
Mujhe yaqeen hai ke paani yeheen se niklega
Muqabla to Muzaffar karoon andheron se
Chiragh ban ke pasina jabeen se niklega

شاعر کے بارے میں

مظفر وارثی

مظفر وارثی اردو ادب کے اُن خوش نصیب شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جنہیں اپنے عہد میں بھی قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا اور جن کا کلام آج بھی عقیدت اور احترام...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام