شعلہ ہوں، بھڑکنے کی گزارش نہيں کرتا
سچ منہ سے نکل جاتا ہے، کوشش نہيں کرتا
گرتی ہوئی ديوار کا ہمدرد ہوں، ليکن
چڑھتے ہوئے سورج کی پرستش نہيں کرتا
ماتھے کے پسينے کی مہک آئے تو ديکھيں
وہ خون ميرے جسم ميں گردش نہيں کرتا
ہمدردی ِ احباب سے ڈرتا ہوں مظفر
ميں زخم تو رکھتا ہوں نمائش نہيں کرتا
مظفر وارثی
Shola hoon, bhadakne ki guzarish nahin karta
Sach munh se nikal jata hai, koshish nahin karta
Girti hui deewar ka hamdard hoon, lekin
Chadhte hue suraj ki parastish nahin karta
Maathe ke pasine ki mahak aaye to dekhen
Wo khoon mere jism mein gardish nahin karta
Hamdardi-e-ahbab se darta hoon Muzaffar
Main zakhm to rakhta hoon numaish nahin karta
مظفر وارثی اردو ادب کے اُن خوش نصیب شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جنہیں اپنے عہد میں بھی قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا اور جن کا کلام آج بھی عقیدت اور احترام کے ساتھ پڑھا اور سنا جاتا ہے۔ ان کا اصل نام محمد مظفر الدین صدیقی تھا اور وہ دسمبر 1933 میں میرٹھ (بھارت) میں پیدا ہوئے۔ قیامِ پاکستان کے بعد وہ ہجرت کر کے لاہور آ گئے جو بعد ازاں ان کی ادبی شناخت او...
مکمل تعارف پڑھیں