نعمان شوق (پیدائش: 2 جولائی 1965ء، آرا ضلع بھوجپور، بہار، بھارت) اردو کے اہم معاصر شعرا میں شمار ہوتے ہیں، جو اپنے منفرد اور مابعد جدید اسلوب کے باعث ادبی دنیا میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ ان کا اصل نام سید محمد نعمان ہے اور ادبی دنیا میں وہ “نعمان شوق” کے تخلص سے جانے جاتے ہیں۔ وہ تاحال بقیدِ حیات ہیں اور ان کی وفات کے حوالے سے کوئی مستند معلومات دستیاب نہیں۔ ایک علمی و ادبی ذوق رکھنے والے گھرانے میں پیدا ہونے کے باعث انہیں بچپن ہی سے زبان و ادب سے شغف حاصل ہو گیا۔ ابتدائی تعلیم انہوں نے اپنے ننیہال میں حاصل کی، جہاں نانی سے اردو اور عربی سیکھی، جبکہ فارسی سے دلچسپی ان کے استاد عزیز الرحمن کی رہنمائی میں پیدا ہوئی۔
نعمان شوق نے باقاعدہ تعلیم کے ساتھ ساتھ ذاتی مطالعہ کے ذریعے اپنی علمی و ادبی بصیرت کو جِلا بخشی۔ اگرچہ ان کی رسمی تعلیمی اسناد کی تفصیل محدود ہے، تاہم اردو، فارسی، ہندی اور دیگر زبانوں کے ادب سے گہرا تعلق ان کی علمی وسعت کا ثبوت ہے۔ پیشہ ورانہ طور پر وہ آل انڈیا ریڈیو سے بطور براڈکاسٹر وابستہ رہے، جس نے ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو مزید نکھارا۔ اس کے علاوہ وہ مترجم، کالم نگار اور ادبی مضامین نگار کی حیثیت سے بھی سرگرم رہے، اور ان کی تحریریں مختلف معتبر ادبی جرائد میں شائع ہوتی رہی ہیں۔
ادبی میدان میں نعمان شوق نے جدید اور مابعد جدید رجحانات کو اپنی شاعری میں سمو کر ایک منفرد اسلوب تشکیل دیا۔ ان کے نمایاں شعری مجموعوں میں “اجنبی ساعتوں کے درمیان”، “فریزر میں رکھی شام”، “جلتا شکارا ڈھونڈنے میں” اور “اپنے کہے کنارے” شامل ہیں، جبکہ ہندی میں ان کا مجموعہ “رات اور وش کنیا” بھی شائع ہو چکا ہے۔ ان کی شاعری میں علامتی اور تجریدی اظہار کے ساتھ سماجی، وجودی اور نفسیاتی موضوعات کی عکاسی ملتی ہے، جو انہیں اپنے ہم عصروں سے ممتاز بناتی ہے۔ وہ نہ صرف اردو بلکہ ہندی ادب میں بھی اپنی تخلیقی شناخت قائم کرنے میں کامیاب رہے، اور معاصر ادب میں ایک معتبر اور منفرد آواز کے طور پر پہچانے جاتے ہیں۔