قیصر الجعفری اردو کے معروف اور ہر دل عزیز شاعر تھے جنہوں نے اپنی سادہ، درد انگیز اور عوامی لہجے کی شاعری سے غیر معمولی شہرت حاصل کی۔ ان کا اصل نام قاضی سید زبیر احمد جعفری تھا اور وہ 14 ستمبر 1926ء کو الہ آباد میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم کے دوران ہی انہیں اردو، فارسی اور عربی زبانوں سے شغف پیدا ہوگیا تھا، جس کا اثر بعد میں ان کی شاعری میں نمایاں نظر آیا۔ تقسیمِ ہند کے بعد وہ ممبئی منتقل ہوگئے جہاں ان کی ادبی شخصیت کو مزید استحکام حاصل ہوا اور وہ مشاعروں کی دنیا میں ایک ممتاز نام بن گئے۔
قیصر الجعفری بنیادی طور پر غزل کے شاعر تھے، تاہم ان کی شاعری محض عشق و محبت تک محدود نہیں رہی بلکہ اس میں انسانی دکھ، سماجی ناانصافی، غربت اور عصری بے حسی کا گہرا احساس بھی موجود ہے۔ ان کے اشعار میں سادگی کے ساتھ ایسی تاثیر پائی جاتی ہے جو قاری اور سامع دونوں کے دل پر اثر چھوڑتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے متعدد اشعار زبان زدِ عام ہوئے۔ ان کے شعری مجموعوں میں “رنگِ حنا”، “سنگ آشنا”، “دشتِ بے تمنا” اور “اگر دریا ملا ہوتا” خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کا مخصوص ترنم اور نرم اندازِ بیان انہیں مشاعروں کا بے حد مقبول شاعر بناتا تھا۔
قیصر الجعفری نہ صرف ایک اچھے شاعر بلکہ ایک باوقار، منکسر المزاج اور تہذیب یافتہ انسان بھی تھے۔ انہوں نے اردو شاعری کو عوامی سطح پر زندہ رکھنے میں اہم کردار ادا کیا اور اپنی پوری زندگی ادب کی خدمت میں صرف کی۔ ان کے ادبی مقام کے اعتراف میں ممبئی میں ایک سڑک ان کے نام سے منسوب کی گئی۔ 5 اکتوبر 2005ء کو ممبئی میں ان کا انتقال ہوا، لیکن ان کی شاعری آج بھی اپنی سادگی، خلوص اور انسانی احساسات کی وجہ سے ادب دوست حلقوں میں بے حد مقبول ہے۔