ثروت حسین — شاعر کی تصویر

اچھا سا کوئی سپنا دیکھو اور مجھے دیکھو — ثروت حسین

شاعر

تعارف شاعری

اچھا سا کوئی سپنا دیکھو اور مجھے دیکھو

اچھا سا کوئی سپنا دیکھو اور مجھے دیکھو
جاگو تو آئینہ دیکھو اور مجھے دیکھو
سوچو یہ خاموش مسافر کیوں افسردہ ہے
جب بھی تم دروازہ دیکھو اور مجھے دیکھو
صبح کے ٹھنڈے فرش پہ گونجا اس کا ایک سخن
کرنوں کا گلدستہ دیکھو اور مجھے دیکھو
بازو ہیں یا دو پتواریں ناؤ پہ رکھی ہیں
لہریں لیتا دریا دیکھو اور مجھے دیکھو
دو ہی چیزیں اس دھرتی میں دیکھنے والی ہیں
مٹی کی سندرتا دیکھو اور مجھے دیکھو

Achha sa koi sapna dekho aur mujhe dekho

Achha sa koi sapna dekho aur mujhe dekho
Jaago to aaina dekho aur mujhe dekho
Socho yeh khamosh musafir kyun afsurda hai
Jab bhi tum darwaza dekho aur mujhe dekho
Subah ke thande farsh pe goonja us ka ek sukhan
Kiranon ka guldasta dekho aur mujhe dekho
Bazu hain ya do patwari naao pe rakhi hain
Lahrein leta darya dekho aur mujhe dekho
Do hi cheezen is dharti mein dekhne wali hain
Mitti ki sundarta dekho aur mujhe dekho

شاعر کے بارے میں

ثروت حسین

ثروت حسین اردو کے جدید اور صاحبِ طرز شاعر تھے جنہوں نے کم عمری میں ہی اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا لوہا منوا لیا۔ وہ 9 نومبر 1949ء کو کراچی میں پیدا ہوئ...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام