جب درخت خاموش تھے
اور بادل شور کر رہے تھے
میں تمہیں یاد کر رہا تھا
جب عورتیں آگ روشن کر رہی تھیں
میں تمہیں یاد کر رہا تھا
جب میدان سے ایک بچے کا جنازہ گزر رہا تھا
میں تمہیں یاد کر رہا تھا
جب قیدیوں کی گاڑی عدالت کے سامنے کھڑی تھی
میں تمہیں یاد کر رہا تھا
جب لوگ عبادت گاہوں کی طرف جا رہے تھے
میں تمہیں یاد کر رہا تھا
جب دنیا میں ہر شخص کے پاس ایک نہ ایک کام تھا
میں تمہیں یاد کر رہا تھا
Jab darakht khamosh the
Aur badal shor kar rahe the
Main tumhein yaad kar raha tha
Jab auratein aag roshan kar rahi theen
Main tumhein yaad kar raha tha
Jab maidan se ek bache ka janaza guzar raha tha
Main tumhein yaad kar raha tha
Jab qaidiyon ki gaari adalat ke saamne khadi thi
Main tumhein yaad kar raha tha
Jab log ibadatgahon ki taraf ja rahe the
Main tumhein yaad kar raha tha
Jab duniya mein har shakhs ke paas ek na ek kaam tha
Main tumhein yaad kar raha tha
ثروت حسین اردو کے جدید اور صاحبِ طرز شاعر تھے جنہوں نے کم عمری میں ہی اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا لوہا منوا لیا۔ وہ 9 نومبر 1949ء کو کراچی میں پیدا ہوئ...
مکمل تعارف پڑھیں