شبنم شکیل اردو کی معروف شاعرہ، ادیبہ، نقاد اور ماہرِ تعلیم تھیں جنہوں نے جدید اردو غزل اور نظم میں نسائی احساسات، محبت، تنہائی، داخلی کرب، سماجی شعور اور خود آگہی کو نہایت وقار اور فکری گہرائی کے ساتھ پیش کیا۔ وہ 12 مارچ 1942ء کو لاہور میں پیدا ہوئیں اور ایک علمی و ادبی گھرانے سے تعلق رکھتی تھیں۔ ان کے والد سید عابد علی عابد اردو ادب کی ممتاز شخصیت تھے، اسی وجہ سے انہیں بچپن ہی سے ادب، زبان اور تنقیدی شعور کا ماحول میسر آیا۔ ابتدائی تعلیم لاہور میں حاصل کرنے کے بعد انہوں نے اورینٹل کالج لاہور سے اردو ادب میں ماسٹرز کیا اور بعد ازاں تدریس کے شعبے سے وابستہ ہو کر مختلف تعلیمی اداروں میں بطور لیکچرر اور استاد خدمات انجام دیں۔ ان کے شاگرد ہمیشہ ان کی علمی شخصیت، شائستگی اور تدریسی صلاحیتوں کا اعتراف کرتے رہے۔
شبنم شکیل کی ادبی شناخت 1960ء کی دہائی میں نمایاں ہوئی جب وہ نئی نسل کی ممتاز شاعرات میں شمار ہونے لگیں۔ ان کی ابتدائی شہرت کتابوں سے زیادہ کالجوں، ادبی نشستوں اور مشاعروں سے ہوئی، جہاں ان کے منفرد لہجے، پُراثر ترنم اور خوش آوازی نے سامعین کو متاثر کیا۔ بعض ادبی حوالوں کے مطابق ان کی آواز کے حسن اور اندازِ پیشکش میں ریڈیو سے وابستگی کا بھی کردار تھا۔ اگرچہ وہ ایک بڑے ادبی خاندان سے تعلق رکھتی تھیں، مگر ناقدین کے نزدیک انہوں نے اپنی شناخت محض خاندانی نسبت سے نہیں بلکہ مسلسل محنت، وسیع مطالعے اور فکری ریاضت سے قائم کی۔ وہ غزل گو شاعرہ کے طور پر زیادہ معروف ہوئیں، تاہم نظم میں بھی ان کا اسلوب منفرد، سنجیدہ اور اثر انگیز تھا۔ ان کی شاعری محض روایتی نسوانی جذبات تک محدود نہیں بلکہ جدید شعور، فکری انفرادیت اور انسانی باطن کی گہری ترجمان ہے۔
ان کے اہم شعری مجموعوں میں شب زاد، اضطراب اور مسافت رائیگاں تھی شامل ہیں، جبکہ نثری اور تنقیدی تصانیف میں تنقیدی مضامین، تقریب کچھ تو ہو، نہ قفس نہ آشیانہ اور آواز تو دیکھو نمایاں ہیں۔ ان کی پہلی کتاب تنقیدی مضامین اس امر کی غماز ہے کہ وہ صرف تخلیق کار نہیں بلکہ ادب پر گہری تنقیدی نظر بھی رکھتی تھیں۔ ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں حکومتِ پاکستان نے انہیں پرائیڈ آف پرفارمنس سے نوازا۔ ان کی نجی زندگی میں شوہر کی وفات ایک بڑا صدمہ ثابت ہوئی، جس کے بعد وہ ذہنی و جسمانی رنج سے گزرتی رہیں۔ شبنم شکیل کا انتقال 2 مارچ 2013ء کو کراچی میں مختصر علالت کے بعد ہوا، بعض اطلاعات کے مطابق وہ ضیاالدین ہسپتال میں زیرِ علاج تھیں، جبکہ ان کی تدفین اسلام آباد میں ہوئی۔ آج انہیں اردو ادب میں ایک باوقار، مہذب، صاحبِ اسلوب اور حساس شاعرہ کے طور پر یاد کیا جاتا ہے جنہوں نے عورت کے باطن اور انسانی احساسات کو وقار، نفاست اور فکری گہرائی کے ساتھ بیان کیا۔