شہاب جعفری — شاعر کی تصویر

شہاب جعفری کا تعارف، احوال زندگی اور سرگزشت

شاعر

تعارف شاعری

تعارف

شہاب جعفری (اصل نام: سید وقار احمد جعفری) جدید اردو شاعری کے ممتاز اور صاحبِ فکر شاعر تھے۔ وہ 2 جون 1930ء کو بنارس (اتر پردیش، ہندوستان) میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر میں حاصل کرنے کے بعد علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے اردو میں ایم اے کیا اور بعد ازاں دہلی یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ علمی و ادبی ذوق نے انہیں ابتدا ہی سے ادب کی دنیا کی جانب مائل کیا، چنانچہ وہ ترقی پسند تحریک اور جدید ادبی رجحانات سے وابستہ ہو کر اردو شاعری میں ایک منفرد مقام حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔

شہاب جعفری پیشہ ورانہ طور پر تدریس سے وابستہ رہے اور دہلی کے خالصہ کالج میں اردو کے استاد کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ ان کی شاعری میں ترقی پسند فکر، سماجی شعور، سیاسی بصیرت اور فنی جمالیات کا حسین امتزاج ملتا ہے۔ انہوں نے غزل، نظم، رباعی اور منظوم ڈرامے سمیت مختلف اصنافِ سخن میں طبع آزمائی کی۔ شاعری کے علاوہ تھیٹر، تنقید اور ادبی مباحث میں بھی سرگرم کردار ادا کیا۔ ان کا شعری مجموعہ "سورج کا شہر" جدید اردو شاعری کا ایک اہم اور معتبر سرمایہ سمجھا جاتا ہے۔

شہاب جعفری کا شمار ان شاعروں میں ہوتا ہے جنہوں نے کم مگر نہایت معیاری ادبی سرمایہ چھوڑا۔ ان کا مشہور شعر "تو اِدھر اُدھر کی نہ بات کر، یہ بتا کہ قافلہ کیوں لٹا" عوامی اور ادبی حلقوں میں غیرمعمولی شہرت رکھتا ہے۔ ان کی شاعری انسانی مسائل، معاشرتی ناانصافیوں، داخلی کرب اور عہدِ حاضر کے تضادات کی بھرپور عکاسی کرتی ہے۔ یکم فروری 2000ء کو دہلی میں ان کا انتقال ہوا، لیکن اپنے گہرے فکری اور فنی اثرات کے باعث وہ آج بھی اردو ادب کے اہم اور یادگار شعرا میں شمار کیے جاتے ہیں۔