شاہین عباس — شاعر کی تصویر

شاہین عباس کا تعارف، احوال زندگی اور سرگزشت

شاعر

تعارف شاعری

تعارف

ِ

شاہیں عباس اردو کے معروف معاصر شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی فکری گہرائی، منفرد اسلوب اور سنجیدہ لہجے کے باعث ادبی دنیا میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ وہ 29 نومبر 1965ء کو شیخوپورہ، پنجاب میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم کے بعد انہوں نے یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور پیشے کے اعتبار سے انجینئر ہیں۔ اگرچہ ان کا عملی میدان انجینئرنگ رہا، مگر ادب سے ان کی وابستگی ابتدا ہی سے مضبوط تھی۔ انہوں نے شاعری کا باقاعدہ آغاز 1980ء میں کیا اور جلد ہی اپنے منفرد لہجے کے باعث اہلِ ادب کی توجہ حاصل کر لی۔

ِ

شاہیں عباس کی شاعری میں داخلی کرب، سماجی شعور، انسانی رشتوں کی پیچیدگیاں، تنہائی، وجودی سوالات اور عصری زندگی کے مسائل نمایاں نظر آتے ہیں۔ ان کے ہاں زبان کی سادگی، فکر کی گہرائی اور اظہار کی تازگی ملتی ہے، اسی لیے ان کی غزل اور نظم دونوں اصناف کو پذیرائی حاصل ہوئی۔ ان کا پہلا شعری مجموعہ "تحیر" 1998ء میں شائع ہوا جو غزلوں پر مشتمل تھا۔ اس کے بعد "وابستہ" (2002ء)، "خدا کے دن" (2009ء)، "منادی" (2013ء)، "درس دھارا" (2014ء) اور حالیہ مجموعہ "گلیوں گلیوں" منظرِ عام پر آئے۔ ان کی شاعری میں روایت اور جدید حسیت کا حسین امتزاج پایا جاتا ہے۔

شاعری کے ساتھ ساتھ شاہیں عباس نے نثر میں بھی طبع آزمائی کی اور ایک ناول نیز افسانوں کا مجموعہ بھی تحریر کیا، جو ان کی ہمہ جہت ادبی صلاحیتوں کا ثبوت ہے۔ 1990ء کے بعد ان کا شمار پاکستان کے اہم شعرا میں ہونے لگا اور مختلف ادبی حلقوں، مشاعروں اور تنقیدی مجالس میں ان کے نام کا ذکر نمایاں ہونے لگا۔ ناقدین نے انہیں وسیع کینوس کا شاعر قرار دیا ہے کیونکہ ان کے موضوعات میں فکری تنوع اور انسانی تجربے کی وسعت نمایاں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ محدود تشہیر کے باوجود سنجیدہ اردو شاعری کے معتبر اور باوقار ناموں میں شمار کیے جاتے ہیں۔