شارق کیفی — شاعر کی تصویر

شارق کیفی کا تعارف، احوال زندگی اور سرگزشت

شاعر

تعارف شاعری

تعارف

شارق کیفی عہدِ حاضر کے اہم اردو شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی منفرد فکری بصیرت، سادہ مگر پُراثر اسلوب اور عصری شعور کے باعث ادبی دنیا میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ 1961ء میں بریلی، اتر پردیش میں پیدا ہونے والے شارق کیفی کو ادبی ذوق اپنے خاندانی ماحول سے وراثت میں ملا۔ ان کے والد کیفی وجدانی (سید رفاقت حسین) خود ایک معتبر شاعر تھے، چنانچہ شعری روایت اور ادبی اقدار نے ان کی فکری و تخلیقی تربیت میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے سائنس میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد اردو ادب میں ایم۔اے کیا اور عملی زندگی کے ساتھ ساتھ شاعری کے سفر کو بھی جاری رکھا۔

شارق کیفی نے غزل اور نظم دونوں اصناف میں اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا بھرپور اظہار کیا ہے۔ ان کی شاعری میں انسانی رشتوں کی پیچیدگیاں، سماجی تغیرات، داخلی کشمکش، تنہائی اور عصرِ حاضر کے انسان کے مسائل نہایت مؤثر انداز میں جلوہ گر ہوتے ہیں۔ ان کا لہجہ سادگی اور بے ساختگی کا حامل ہے، لیکن اس کے پسِ منظر میں گہری معنویت اور فکری پختگی موجود ہوتی ہے۔ وہ روزمرہ زندگی کے معمولی واقعات اور تجربات کو شعری جمالیات کے ساتھ پیش کرنے کا ہنر رکھتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کی شاعری قاری کے دل و دماغ پر دیرپا اثر چھوڑتی ہے۔

ان کے شعری مجموعوں میں ’’عام سا ردِّعمل‘‘، ’’یہاں تک روشنی آتی کہاں تھی‘‘ اور نظموں کا مجموعہ ’’اپنے تماشے کا ٹکٹ‘‘ خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔ شارق کیفی کی شاعری روایت اور جدت کے حسین امتزاج کی آئینہ دار ہے اور اسے جدید اردو شاعری میں ایک اہم اور معتبر آواز کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ ان کا کلام نہ صرف فنی پختگی کا مظہر ہے بلکہ اپنے عہد کے انسان کے احساسات، مسائل اور تجربات کی سچی ترجمانی بھی کرتا ہے، جس کے باعث وہ اردو ادب میں ایک منفرد اور قابلِ احترام مقام رکھتے ہیں۔