عمیر نجمی (اصل نام: محمد عمیر) معاصر اردو شاعری کا ایک معتبر اور توانا نام ہیں۔ وہ 2 ستمبر 1986ء کو رحیم یار خان، پنجاب میں پیدا ہوئے۔ غزل اور نظم دونوں اصناف میں ان کی پہچان قائم ہے اور ان کا کلام فکری گہرائی، داخلی احساس اور سادہ مگر اثر انگیز اسلوب کی وجہ سے نمایاں سمجھا جاتا ہے۔ کلاسیکی روایت سے جڑے رہتے ہوئے جدید حسیت کو اپنانا ان کی شاعری کا خاص وصف ہے، جس نے انہیں نوجوان اور سنجیدہ ادبی حلقوں دونوں میں مقبول بنایا۔
تعلیمی اعتبار سے عمیر نجمی نے یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی (UET)، لاہور سے آرکیٹیکچرل انجینئرنگ میں تعلیم حاصل کی۔ پیشہ ورانہ طور پر وہ ایک آرکیٹیکٹ کے طور پر بھی کام کرتے ہیں، تاہم ان کی ادبی شناخت ان کی شاعری کی بنیاد پر قائم ہے، نہ کہ ان کے پیشے کی وجہ سے۔ انہوں نے اپنے ادبی سفر کا باقاعدہ آغاز 2014ء میں کیا، جس کے بعد ان کی غزلیں اور نظمیں ادبی حلقوں اور قارئین میں توجہ حاصل کرنے لگیں۔
عمیر نجمی کی شاعری کے موضوعات میں محبت، فراق، انسانی کرب، روحانی جستجو اور عصرِ حاضر کی داخلی کشمکش نمایاں طور پر دکھائی دیتی ہے۔ ان کا شعری اسلوب سادہ مگر گہرا ہے، جس میں داخلی احساس اور فکری سنجیدگی جھلکتی ہے۔ ان کا شعری مجموعہ “ایک” سن 2023ء میں شائع ہوا، جسے ادبی حلقوں میں توجہ حاصل ہوئی۔ آن لائن ادبی پلیٹ فارمز، مشاعروں اور محافل کے ذریعے ان کا کلام وسیع حلقۂ قارئین تک پہنچ چکا ہے اور وہ معاصر اردو شاعری میں ایک نمایاں آواز کے طور پر پہچانے جاتے ہیں۔