search
شعرا
ایکس سپیس
سپیکرز
رابطہ
عمیر نجمی
شاعر
تعارف
شاعری
کلام
ملنے کا جب کہا تو ملا دکھ ہوا مجھے
جنون میں کر دیا تھا کب کچھ نہیں پتہ تھا
گزشتہ شب یوں لگا کہ اندر سے کٹ رہا ہوں
جہان بھر کی تمام آنکھیں نچوڑ کر جتنا نم بنے گا
مو قلم توڑ چکا آخری تصویر کے بعد
ہمیں تحفظ کا خبط، چھُپنے کی لت نہیں تھی
لیتے تھے لطف ہم اَدَبی اختلاف کا
لگتا ہے کر کے لمبا سفر آ رہا ہوں میں
زیست کم لگتی تھی دشوار زیادہ نکلی
نظر ٹھہرتی نہیں ہے، رخ آفتاب ہی ہے
اک دن زباں سکوت کی پوری بناؤں گا
کوئی حسین بدن جن کی دسترس میں نہیں
کچھ سفینے ہیں جو غرقاب اکٹھے ہوں گے
کھیل دونوں کا چلے تین کا دانہ نہ پڑے
چاہتا ہوں کہ نظر نور سے مانوس نہ ہو
ہر اک ہزار میں بس پانچ سات ہیں ہم لوگ
بچھڑ گئے تو یہ دل عمر بھر لگے گا نہیں
اِس خرابے میں کچھ آگے وہ جگہ آتی ہے
بڑے تحمل سے رفتہ رفتہ نکالنا ہے
جاؤ! مجھے ڈراؤ نہ کارِ ملال سے
منظر دھندھلے روشنیاں مدھم ہوتی ہیں
(غیر) حاضر
تجھے نہ آئیں گی مفلس کی مشکلات سمجھ
اس کی طرف بس اس لیے تکتا نہیں تھا میں
دائیں بازو میں گڑا تیر نہیں کھینچ سکا
ایک تاریخ مقرر پہ تو ہر ماہ ملے
بندوق تانتے ہیں ہدف دیکھتے ہیں بس