وحشت رضا علی کلکتوی اردو کے ممتاز شاعر، ادیب، نقاد اور استادِ سخن تھے جن کا اصل نام سید رضا علی تھا جبکہ “وحشتؔ” ان کا تخلص تھا۔ وہ 18 نومبر 1881ء کو کولکاتا میں پیدا ہوئے۔ اردو شاعری میں ان کا شمار بیسویں صدی کے اہم کلاسیکی مزاج رکھنے والے شعرا میں ہوتا ہے۔ انہوں نے اپنی شاعری میں بالخصوص میرؔ اور غالبؔ کی روایت کو نہایت خوبصورتی سے آگے بڑھایا اور زبان و بیان کی شائستگی، محاورے کی صحت اور کلاسیکی رنگ کے باعث ادبی حلقوں میں بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھے گئے۔
وحشتؔ نے ابتدائی تعلیم کلکتہ میں حاصل کی اور بعد ازاں مدرسہ عالیہ کلکتہ سے تعلیم پائی۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ سرکاری خدمات سے وابستہ ہوئے اور کچھ عرصہ “امپیریل ریکارڈ ڈپارٹمنٹ” میں چیف مولوی کے منصب پر فائز رہے۔ بعد میں اسلامیہ کالج کلکتہ میں اردو اور فارسی کے پروفیسر مقرر ہوئے۔ ان کی علمی و ادبی خدمات کے اعتراف میں برطانوی حکومت نے 1931ء میں انہیں “خان بہادر” کا خطاب عطا کیا۔ شاعری میں انہوں نے شمس فرید پوری سے اصلاح لی، جو خود داغ دہلوی کے شاگرد تھے، اسی لیے ان کے کلام میں دبستانِ داغ کی لطافت نمایاں دکھائی دیتی ہے۔
وحشتؔ رضا علی کلکتوی نہ صرف غزل گو شاعر تھے بلکہ نثر نگار بھی تھے۔ ان کے شعری مجموعوں میں “دیوانِ وحشت” (1911ء)، “ترانۂ وحشت” (1950ء) اور نثری تصنیف “نقوش و آثار” خاص طور پر اہم ہیں۔ ان کی شاعری میں کلاسیکی تہذیب، عشق کی لطافت، فکری پختگی اور زبان کی صفائی نمایاں ہے۔ تقسیمِ ہند کے بعد وہ کلکتہ سے ہجرت کرکے ڈھاکہ منتقل ہوگئے جہاں 30 جولائی 1956ء کو ان کا انتقال ہوا۔ بعض حوالوں میں مقامِ وفات مغربی بنگال بھی درج ہے، تاہم زیادہ معتبر ادبی مآخذ ڈھاکہ کو مقامِ وفات قرار دیتے ہیں۔ ان کے شاگردوں میں جمیل مظہری، اقبال عظیم اور عباس علی خاں بیخود جیسے معروف شعرا شامل تھے، جو ان کے ادبی اثر و رسوخ کا واضح ثبوت ہیں۔