search
شعرا
ایکس سپیس
سپیکرز
ہمارے متعلق
رابطہ کیجیے
وزیر آغا
شاعر
تعارف
شاعری
کلام
عمر کی اس ناؤ کا چلنا بھی کیا رکنا بھی کیا
ساری عمر گنوا دی ہم نے
پتھروں کی قید میں اک آب جو
عجیب ہے یہ سلسلہ
تم جو آتے ہو
بانجھ
کٹھور راہیں
چلو مانا ہمیں بے کارواں ہیں
دن ڈھل چکا تھا اور پرندہ سفر میں تھا
بدّل باہجھ ہوا
بیاض شب و روز پر دستخط تیرے قدموں کے ہوں
وہ دن گئے کہ چھپ کے سر بام آئیں گے
تمہیں خبر بھی نہ ملی اور ہم شکستہ حال
اس گریۂ پیہم کی اذیت سے بچا دے
کس کس سے نہ وہ لپٹ رہا تھا
منظر تھا راکھ اور طبیعت اداس تھی
نہ آنکھیں ہی جھپکتا ہے نہ کوئی بات کرتا ہے
اس کے دشمن
تھی نیند میری مگر اس میں خواب اس کا تھا
بے زباں کلیوں کا دل میلہ کیا
آسماں پر ابر پارے کا سفر میرے لیے
اس کی آواز میں تھے سارے خد و خال اس کے
سکھا دیا ہے زمانے نے بے بصر رہنا