زبیر قلزم — شاعر کی تصویر

دل سے ہی جب اتر گیا ہے وہ — زبیر قلزم

شاعر

تعارف شاعری

دل سے ہی جب اتر گیا ہے وہ

دل سے ہی جب اتر گیا ہے وہ
غزض کیا ہے کدھر گیا ہے وہ
ہجر کا غم تو ہے مگر دکھ یہ
پہلے سے بھی نکھر گیا ہے وہ
ہائے وعدہ وفا کا بھولا نہیں
سیدھا سیدھا مکر گیا ہے وہ
سن کے اچھا لگا رقیب مرے
تم سے بھی ہاتھ کر گیا ہے وہ
آئینہ جو دکھاتا پھرتا تھا
دیکھ کر خود بھی ڈر گیا ہے وہ
آپ آئے ہیں جس سے ملنے
ہجر پر صبر کر گیا ہے وہ
اپنے در کا مجھے بنا کہ فقیر
اور خود در بدر گیا ہے وہ
مر نہ جائے کہیں وہ وحشت سے
ہوش میں آج گھر گیا ہے
آپ قلزم سے ملنے آئے ہیں
آہ کل رات مر گیا ہے وہ

Dil se hi jab utar gaya hai woh

Dil se hi jab utar gaya hai woh
Gharaz kya hai kidhar gaya hai woh
Hijr ka gham to hai magar dukh yeh
Pehle se bhi nikhar gaya hai woh
Haaye waada wafa ka bhoola nahin
Seedha seedha mukar gaya hai woh
Sun ke achha laga raqeeb mere
Tum se bhi haath kar gaya hai woh
Aayina jo dikhata phirta tha
Dekh kar khud bhi dar gaya hai woh
Aap aaye hain jis se milne
Hijr par sabr kar gaya hai woh
Apne dar ka mujhe bana ke faqeer
Aur khud dar ba dar gaya hai woh
Mar na jaaye kahin woh wahshat se
Hosh mein aaj ghar gaya hai
Aap Qulzum se milne aaye hain
Aah kal raat mar gaya hai woh

شاعر کے بارے میں

زبیر قلزم

آج آپ کو بے تکلفات کا اظہار کرنے والے ناتواں لیکن تمام دنیا سے لڑ جانے والے سرکش عاشق'فلسفہ پہ گہری نظر رکھنے والے اور خودار شاعر سے متعارف کرواتے ...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام