بدل گئی ہیں اگرچہ ضرورتیں اپنی
بدل گئی ہیں اگرچہ ضرورتیں اپنی
ہمارے ساتھ ہیں اب تک روایتیں اپنی
ہمیں حیات کا ہر لمحہ تب بھی دوزخ تھا
ہمارے پاؤں تلے جب تھیں جنتیں اپنی
وہ پھول اب کھلے جن کی تلاش میں ہم لوگ
گنوا چکے ہیں کبھی کے بصارتیں اپنی
رہے ہیں اپنی ہی پہچان میں یوں سرگرداں
کہ یاد آتی نہیں ہم کو صورتیں اپنی
بکے ہیں کوڑیوں کے بھاؤ تو گلہ کس سے
ہمیں کو خود نہ تھیں معلوم قیمتیں اپنی
خموشیوں کی صدائیں بلا رہی تھیں ہمیں
نہ ساتھ دے سکیں لیکن سماعتیں اپنی
سبھی کو دعویٰ ہے آزادؔ جانتے ہیں ہمیں
کھلیں نہ ہم پہ ہی لیکن حقیقتیں اپنی
آزاد گلاٹی