اک بادہ شباب کا کیا کیا سرور تھا
اک بادہ شباب کا کیا کیا سرور تھا
جو مرمٹا کسی پہ میں مجرم ضرور تھا
یہ آج بھی قصور ہے، کل بھی قصور تھا
برقع اٹھا جو رُخ سے، حیا بن گئی نقاب
ہلکا سہی وصال میں پردہ ضرور تھا
ساقی نے مے تو سب کو پلائی تھی ایک سی
لیکن بقدر ظرف ہر اک کا سرور تھا
لازم تھی بے خودی ترے دیدار کے لیے
پردہ جو بیچ میں تھا، وہ میرا شعور تھا
بجھنے کی جو نہیں، وہ مرے دل کی آگ ہے
دم بھر میں جو جلا بھی، بجھا بھی، وہ طور تھا
ناصح نہ پوچھ حسن کے پتلوں کی دل کشی
ان پر تو دل کا ٹوٹ کے آنا ضرور تھا
آرائشیں نہیں تھیں، آپ تھے وعدے کی رات تھی
میں تھا، تسلیاں تھیں، دل ناصبور تھا
خاموش کاٹنی تھی، مبارک شب فراق
یہ کس نے تم سے کہہ دیا نالہ ضرور تھا
مبارک عظیم آبادی