دل سے ہی جب اتر گیا ہے وہ
غزض کیا ہے کدھر گیا ہے وہ
ہجر کا غم تو ہے مگر دکھ یہ
پہلے سے بھی نکھر گیا ہے وہ
ہائے وعدہ وفا کا بھولا نہیں
سیدھا سیدھا مکر گیا ہے وہ
سن کے اچھا لگا رقیب مرے
تم سے بھی ہاتھ کر گیا ہے وہ
آئینہ جو دکھاتا پھرتا تھا
دیکھ کر خود بھی ڈر گیا ہے وہ
آپ آئے ہیں جس سے ملنے
ہجر پر صبر کر گیا ہے وہ
اپنے در کا مجھے بنا کہ فقیر
اور خود در بدر گیا ہے وہ
مر نہ جائے کہیں وہ وحشت سے
ہوش میں آج گھر گیا ہے
آپ قلزم سے ملنے آئے ہیں
آہ کل رات مر گیا ہے وہ
زبیر قلزم
ہمیں بھی تو محبت ہو گئی تھی
نہ پوچھو کیا قیامت ہو گئی تھی
ہمیں جب عشق نے قیدی رکھا تھا
تو جاں دے کر ضمانت ہو گئی تھی
اٹھائے پھر رہا ہوں لاش اپنی
مری مجھ سے ہلاکت ہو گئی تھی
یہ کیسے تم نے بدلی ہے بتاؤ
تمہیں بھی میری عادت ہو گئی تھی
میں جب تک لوٹا اپنے پاس تب تک
مرے اندر بغاوت ہو گئی تھی
اجل آئی ہے میں صدقے میں واری
اذیت میری قسمت ہو گئی تھی
بچھڑتے وقت یہ بھی دکھ تھا قلزم
وہ کتنی خوبصورت ہو گئی تھی
زبیر قلزم
چہرہ فتنہ وبال آنکھیں ہیں
ہائے کتنی کمال آنکھیں ہیں
نہ ستارے کہو نہ موتی کہو
وہ میاں بے مثال آنکھیں ہیں
ان کی معصومیت پہ مت جانا
وجہ جدل و قتال آنکھیں ہیں
میں کوئی بات بھی کروں کیسے
اک نظر سو سوال آنکھیں ہیں
ہم پہ واجب ہے رقص کرنا اب
ہم نے دیکھی دھمال آنکھیں ہیں
کیا بتاؤں میں خال و خد اس کے
اس کا سارا جمال آنکھیں ہیں
یہ طبیبوں کے بس کی بات نہیں
وہ طبیعت بحال آنکھیں ہیں
ہم نے مانا شکاری ہو قلزم
بچ کے رہنا وہ جال آنکھیں ہیں
زبیر قلزم
خواب کیسے دکھا گیا مجھ کو
نیند سے ہی ڈرا گیا مجھ کو
ساتھ راتیں گزارنے والا
دن میں تارے دکھا گیا مجھ کو
میں سمجھ دار لڑکا کنبے کا
کیسے پاگل بنا گیا مجھ کو
یہ جوانی مری کہاں ہے ڈھلی
یہ تو بس ہجر کھا گیا مجھ کو
آئینہ تک ہنسا ہے مجھ پہ آج
وہ تماشہ بنا گیا مجھ کو
آپ رکھ لیں یہ زندگی باقی
کوئی زندہ جلا گیا مجھ کو
پھر تماشہ تمہارا بھی ہو گا
جب کبھی صبر آ گیا مجھ کو
رات بھی ساتھ بیٹھی ہے میرے
وہ جہاں پر بٹھا گیا مجھ کو
زبیر قلزم
خود سے ہی مذاق کر گیا میں
کل رات کو اپنے گھر گیا میں
کس زندگی کا حساب دوں گا
جس زندگی سے مکر گیا میں
ہر بزم کی جان تھا مگر آج
سائے سے ہی اپنے ڈر گیا میں
پھر کیا ہوگا زاہدو تمہارا
اس پل سے اگر گزر گیا میں
خوش فہمی یہ کس کو ہو رہی ہے
کس نے یہ کہا سدھر گیا میں
مقتل بھی گیا صنم کدے بھی
مایوسی ہوئی جدھر گیا میں
کوئی بھی نہ تعزیت کو آیا
میں کہتا رہا کہ مر گیا میں
میں خود کی تلاش میں ہوں قلزم
کچھ تم کو خبر کدھر گیا میں
زبیر قلزم
اس قدر پیار سے وہ کھلاتے رہے
یہ لگا ہی نہیں دھوکہ کھاتے رہے
یہ بھی سچ ہے کسی سے محبت نہ تھی
یہ بھی سچ ہے سبھی سے نبھاتے رہے
ان کو پوچھے خدا ان کا نہ ہو بھلا
جو محبت کو نعمت بتاتے رہے
ان کے ہاتھوں میں شاید شفا ہی نہ تھی
ہم جہنیں زخم اپنے دکھاتے رہے
ہم نے تا عمر خوش جس خدا کو کیا
اس خدا کے ہی بندے رلاتے رہے
ذکر چھیڑا کسی نے وفاؤں کا جب
وہ نہ بولے مگر منہ چھپاتے رہے
عشق والوں کا دل نہ لگا پھر کہیں
حسن والے تو دل کو لگاتے رہے
لوگوں نے روح تک کو دیا ہے فریب
عشق کہہ کر ہوس کو مٹاتے رہے
زبیر قلزم
ان کی گرگٹ مثال دیتے ہیں
رنگ وہ اس طرح بدلتے ہیں
آگئے بھول کر فرشتوں میں
معذرت ہم جناب چلتے ہیں
شعر آسان تو نہیں کہنے
خون جلتا ہے تب نکلتے ہیں
ان پر مر کر تو ہم نے دیکھ لیا
اب کسی حادثے میں مرتے ہیں
آپ زلفیں ہی بس سنبھالا کریں
ہم کہاں آپ سے سنبھلتے ہیں
جو خدا کے قریب تر کر کردے
آؤ ایسا گناہ کرتے ہیں
ایسے رخصت ہوئے مرے احباب
جیسے پتے خزاں میں جھڑتے ہیں
یہ جھجھک کیسی اور وعدہ کریں
کب کہا آپ کیوں مکرتے ہیں
مجھ کو ڈسنے کا سوچتے ہیں وہ
جو مری آستیں میں پلتے ہیں
زبیر قلزم
جب جنوں سارے اتر جائیں گے
بخت مارے یہ کدھر جائیں گے
آس کا آپ نہ دامن چھوڑیں
ایک دن ہم بھی سدھر جائیں گے
دیکھ لینا کہ یہ جینے والے
جینے کی چاہ میں مر جائیں گے
ہوں گے برباد محبت میں ہم
آپ کا کیا ہے مکر جائیں گے
اے قلم کار کہانی میں ڈال
ہم ہیں کردار جو مر جائیں گے
آپ جائیں نہ محلے دل کے
آہ نکلے گی جدھر جائیں گے
ہجر میں اور تو کیا ہو گا جناب
آپ کے بال بکھر جائیں گے
آج گڑیا نے ہے گڑیا مانگی
آج کیسے بھلا گھر جائیں گے
جاننے کی مجھے کوشش نہ کریں
میرے حالات سے ڈر جائیں گے
زبیر قلزم
جناب کب کہیں پتھروں کا نام تھا پتھر
یہ میرا ضبط بنا تب کہا گیا پتھر
یہ کھیل سارا عقیدت کا ہے مرے یارو
کہیں ہے بندہ خدا تو کہیں خدا پتھر
ہوس نے وصل میں بستر پہ سلوٹیں ڈالیں
یہ عشق دور کہیں پر بنا رہا پتھر
ترے بچھڑنے پہ بھی خوب رونا تھا لیکن
جو پہلا شخص تھا مجھ کو بنا گیا پتھر
متاع جان تری طرف دوڑنا چاہوں
میں کیا کروں غم دوراں نے کر دیا پتھر
ملا ہے حال بھی پوچھا ہے میرا میں نے کہا
میں ٹھیک رب کا کرم اور تو سنا پتھر
یہ پھول لانے کی زحمت جناب کیوں کی ہے
وہ دیکھیے مرے گلدان میں سجا پتھر
زبیر قلزم
اس لئے ذکر غم کیا ہی نہیں
آدمی آدمی رہا ہی نہیں
آ مجھے پھر سے چھوڑ کر تو جا
تیرے اب ہجر میں مزہ ہی نہیں
ہجر ہو، مفلسی ہو ، کہ ہو دغا
کوئی غم خیر سے بچا ہی نہیں
دشمن جان پیار سے جاں مانگ
ایسے تو میں کبھی دبا ہی نہیں
آگ ایسی لگائی مرنے تک
دل یہ جلتا رہا بجھا ہی نہیں
آس کیا رکھتا اچھے وقت کی میں
کہ برا وقت تو ٹلا ہی نہیں
جھریاں یا سفید بال دکھے
آئینے میں میں تو دکھا ہی نہیں
ایک اک کونہ گھر کا دیکھ لیا
پر میں خود کو کہیں ملا ہی نہیں
وہ تھا ماہر بچھڑنے میں قلزم
بے وفا وہ مجھے لگا ہی نہیں
زبیر قلزم
جسم مے خانے میں پڑا ہے مرا
دل نجانے کہاں گرا ہے مرا
میں تمہیں بد دعائیں دیتا ہوں
جب کوئی حال پوچھتا ہے مرا
مجھ کو بوڑھا نہ جان بات یہ ہے
غم مری عمر سے بڑا ہے مرا
گھر میں پنکھا ہے اور رسی بھی
پھر بھی زندہ ہوں حوصلہ ہے مرا
خوش رہوں غم کو مار دوں یعنی
ایک غم ہی تو آسرا ہے مرا
میرا ہو جائے اب تو اس سے کہو
اب تو معیار بھی گرا ہے مرا
جانے تعبیر کیا ہو گی قلزم
خواب میں خواب اک جلا ہے مرا
زبیر قلزم
بتائیں حسن اس کا کیا جمال ہی جمال
حسین ہے بلا کا وہ کمال ہی کمال ہے
غزال بھی کریں ہیں باتیں آپ کی جناب کی
چلیں تو چال ایسی ہے دھمال ہی دھمال ہے
میں کہا کہوں میں کیا لکھوں یہ ممکنات میں نہیں
بیان حسن ان کا تو خیال ہی خیال ہے
نگاہیں تیر تیر ہیں تو آنکھیں جال جال ہیں
کرو یقین میرا بچنا تو محال ہی محال ہے
یہ چاندنی شبوں کی اب مجھے طلب نہیں رہی
وہ چہرہ ایسا دوستا اجال ہی اجال ہے
وہ مثل معجزات بھی وہ حسن کائنات بھی
خدا کی وہ خدائی کی مثال ہی مثال ہے
نصیب کی یہ بات ہے وہ میرا بن سکا نہیں
زبیر اس نصیب پر ملال ہی ملال ہے
زبیر قلزم