شہریار — شاعر کی تصویر

آخری سانس — شہریار

شاعر

تعارف شاعری

آخری سانس

شمع کی لو نے جب آخری سانس لی
آخر شب
نگاہوں سے گرنے لگی اوس
پہلو بدلنے لگی
راہ کی جاگتی گرد
سونے لگی رات
اور خامشی گیت بننے لگی
نقش بے خواب چلنے لگے
حال و ماضی کہیں آنکھ ملنے لگے
منزلوں کے نشاں چیختے رہ گئے

Aakhri saans

Shama ki lau ne jab aakhri saans li
Aakhir-e-shab
Nigahon se girne lagi os
Pahlu badalne lagi
Raah ki jaagti gard
Sone lagi raat
Aur khamoshi geet banne lagi
Naqsh-e-be-khwab chalne lage
Haal-o-maazi kahin aankh milne lage
Manzilon ke nishaan cheekhte reh gaye

شاعر کے بارے میں

شہریار

کنور محمد اخلاق دنیائے ادب میں شہر یار کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ وہ 16 جون 1936کو آنولہ، ضلع بریلی، اُتر پردیش میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم ہردوئی میں حاصل کی۔ 1948میں علی گڑھ آئے۔ 1961 میں اردو میں ایم اے کیا۔ 1966میں شعبہ اردو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں لیکچرر ہوئے۔ 1996میں یہیں سے پروفیسر اور صدر اردو کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔ ہاکی، بیڈمنٹن اور...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام