سوتے سوتے چونک اٹھی جب پلکوں کی جھنکار
آبادی پر ویرانے کا ہونے لگا گمان
وحشت نے پر کھول دیے اور دھندلے ہوئے نشان
ہر لمحے کی آہٹ بن گئی سانپوں کی پھنکار
ایسے وقت میں دل کو ہمیشہ سوجھا ایک اپائے
کاش کوئی بے خواب دریچہ چپکے سے کھل جائے
شہریار
Sote sote chaunk uthi jab palkon ki jhankaar
Aabadi par veerane ka hone laga guman
Wahshat ne par khol diye aur dhundhle hue nishaan
Har lamhe ki aahat ban gayi saanpon ki phunkar
Aise waqt mein dil ko hamesha soojha ek upaaye
Kaash koi be-khwab daricha chupke se khul jaaye
کنور محمد اخلاق دنیائے ادب میں شہر یار کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ وہ 16 جون 1936کو آنولہ، ضلع بریلی، اُتر پردیش میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم ہردوئی میں حاصل کی۔ 1948میں علی گڑھ آئے۔ 1961 میں اردو میں ایم اے کیا۔ 1966میں شعبہ اردو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں لیکچرر ہوئے۔ 1996میں یہیں سے پروفیسر اور صدر اردو کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔ ہاکی، بیڈمنٹن اور...
مکمل تعارف پڑھیں