شہریار — شاعر کی تصویر

آسماں کچھ بھی نہیں اب تیرے کرنے کے لیے — شہریار

شاعر

تعارف شاعری

آسماں کچھ بھی نہیں اب تیرے کرنے کے لیے

آسماں کچھ بھی نہیں اب تیرے کرنے کے لیے
میں نے سب تیاریاں کر لی ہیں مرنے کے لیے
اس بلندی خوف سے آزاد ہو اس نے کہا
چاند سے جب بھی کہا نیچے اترنے کے لیے
اب زمیں کیوں تیرے نقشے سے نہیں ہٹتی نظر
رنگ کیا کوئی بچا ہے اس میں بھرنے کے لیے
یہ جگہ حیرت سرائے ہے کہاں تھی یہ خبر
یوں ہی آ نکلا تھا میں تو سیر کرنے کے لیے
کتنا آساں لگ رہا ہے مجھ کو آگے کا سفر
چھوڑ آیا پیچھے پرچھائیں کو ڈرنے کے لیے

Aasmaan kuch bhi nahin ab tere karne ke liye

Aasmaan kuch bhi nahin ab tere karne ke liye
Main ne sab tayyariyan kar li hain marne ke liye
Is bulandi khauf se azaad ho us ne kaha
Chand se jab bhi kaha neeche utarne ke liye
Ab zameen kyun tere naqshe se nahin hatti nazar
Rang kya koi bacha hai is mein bharne ke liye
Yeh jagah hairat-saraye hai kahan thi yeh khabar
Yun hi aa nikla tha main to sair karne ke liye
Kitna aasaan lag raha hai mujh ko aage ka safar
Chhod aaya peechhe parchhaiyan ko darne ke liye

شاعر کے بارے میں

شہریار

کنور محمد اخلاق دنیائے ادب میں شہر یار کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ وہ 16 جون 1936کو آنولہ، ضلع بریلی، اُتر پردیش میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم ہردوئی میں حاصل کی۔ 1948میں علی گڑھ آئے۔ 1961 میں اردو میں ایم اے کیا۔ 1966میں شعبہ اردو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں لیکچرر ہوئے۔ 1996میں یہیں سے پروفیسر اور صدر اردو کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔ ہاکی، بیڈمنٹن اور...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام