شہریار — شاعر کی تصویر

اب کے برس — شہریار

شاعر

تعارف شاعری

اب کے برس

ہوا کا تعاقب کبھی چاند کی چاندنی کو پکڑنے کی خواہش
کبھی صبح کے ہونٹ چھونے کی حسرت
کبھی رات کی زلف کو گوندھنے کی تمنا
کبھی جسم کے قہر کی مدح خوانی
کبھی روح کی بے کسی کی کہانی
کبھی جاگنے کی ہوس کو جگانا
کبھی نیند کے بند دروازے کو کھٹکھٹانا
کبھی صرف آنکھیں ہی آنکھیں ہیں اور کچھ نہیں ہے
کبھی کان ہیں ہاتھ ہیں اور زباں ہے
کبھی صرف لب ہیں
دلوں کے دھڑکنے کے انداز
اب کے برس کچھ عجب ہیں

Ab ke baras

Hawa ka ta'aqub kabhi chand ki chandni ko pakadne ki khwahish
Kabhi subah ke honth chhoone ki hasrat
Kabhi raat ki zulf ko goondhne ki tamanna
Kabhi jism ke qahr ki madh khwaani
Kabhi rooh ki be-kasi ki kahani
Kabhi jaagne ki hawas ko jagaana
Kabhi neend ke band darwaze ko khatkhatana
Kabhi sirf aankhen hi aankhen hi hain aur kuch nahin hai
Kabhi kaan hain haath hain aur zaban hai
Kabhi sirf lab hain
Dilon ke dhadakne ke andaaz
Ab ke baras kuch ajab hi hain

شاعر کے بارے میں

شہریار

کنور محمد اخلاق دنیائے ادب میں شہر یار کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ وہ 16 جون 1936کو آنولہ، ضلع بریلی، اُتر پردیش میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم ہردوئی میں حاصل کی۔ 1948میں علی گڑھ آئے۔ 1961 میں اردو میں ایم اے کیا۔ 1966میں شعبہ اردو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں لیکچرر ہوئے۔ 1996میں یہیں سے پروفیسر اور صدر اردو کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔ ہاکی، بیڈمنٹن اور...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام